وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور سرحدی سکیورٹی پر پاکستان کا مؤقف دوٹوک انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے کابل کی طالبان حکومت کو واضح پیغام دیا کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف مسلسل استعمال اب کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے عالمی فورم پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ افغانستان کے اندر کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے مستقل خطرہ بن چکی ہیں، جن کا فوری سدباب ناگزیر ہے۔
دہشت گرد نیٹ ورکس
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں نشان دہی کی کہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندستان جیسے دہشت گرد گروہ افغان سرزمین پر موجود پناہ گاہوں سے منظم انداز میں متحرک ہیں۔ ان گروہوں کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے، جس کے بل بوتے پر وہ پاکستان کی اندرونی سلامتی اور خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی سازشیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کالعدم تنظیموں کو افغانستان میں میسر محفوظ ٹھکانے اور وسائل پاکستان میں بدامنی پھیلانے کا بنیادی سبب ہیں۔ اس پس منظر میں افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حدود میں موجود ان نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کرے۔
سرحد پار دراندازی
وزیراعظم نے افغان سرزمین سے ہونے والی سرحد پار دراندازی اور حملوں پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ فوری اور مکمل طور پر بند ہونا چاہیے۔ پاکستان نے ہمیشہ ہمسایہ ملک کے ساتھ اچھے تعلقات اور خطے کے استحکام کی خواہش کی ہے، لیکن شہریوں اور فورسز کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ سرحد پار سے مسلح عناصر کی مسلسل نقل و حرکت دوطرفہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، لہٰذا سرحد کی موثر نگرانی اور شرپسندوں کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
فیصلہ کن اقدامات پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین کو مستقبل میں پاکستان یا دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے کی قطعی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے عالمی برادری کو بھی متوجہ کیا کہ افغان سرزمین سے سرگرم خطرات سے نمٹنے کے لیے افغان حکومت پر سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھایا جائے، تاکہ خطے میں پائیدار امن، تحفظ اور اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔