افغان طالبان کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت کے مطابق پاکستان کی جانب سے کنڑ، پکتیکا اور خوست کے مختلف اضلاع میں مارٹر، راکٹ اور ڈرون حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 2 بچوں کی ہلاکت اور 25 شہریوں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ کنڑ کے سرکانو اور منوگئی اضلاع میں درجنوں مارٹر گولے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے گولے فائر کیے گئے، جبکہ بعض علاقوں میں بچوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی جاتی ہیں اور ان کا ہدف دہشت گردوں کے ٹھکانے اور نقل و حرکت ہوتی ہے۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق کنڑ اور ملحقہ علاقے طویل عرصے سے کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں رہے ہیں، جہاں سے پاکستان کے اندر حملے کیے جاتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 2025 میں ہونے والے سینکڑوں حملوں کے تانے بانے افغان سرزمین سے ملتے ہیں، جس پر پاکستان بارہا تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہر سرحدی کارروائی کے بعد شہری ہلاکتوں کے الزامات سامنے آنا ایک تسلسل بن چکا ہے، جبکہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق یا شواہد اکثر فراہم نہیں کیے جاتے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد عناصر شہری آبادی کے قریب پوزیشن لے کر صورتحال کو پیچیدہ بناتے ہیں اور بعد ازاں اسے پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے افغان حکام سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردوں کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں، تاہم اس حوالے سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ ماہرین کے مطابق اگر سرحدی علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔