خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس کی زبوں حالی اور انتظامی بے حسی کا ایک انتہائی تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں بنوں پولیس نے وسائل کی شدید قلت کے باعث وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورۂ بنوں کے دوران انہیں سکیورٹی فراہم کرنے سے معذرت کر لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اس اہم متوقع دورے کے لیے بنوں پولیس اس وقت جدید ہتھیاروں، بلٹ پروف گاڑیوں اور ضروری سکیورٹی آلات کی شدید کمی کا شکار دکھائی دی۔ دہشت گردی کی لہر کا سامنا کرنے والے اہلکار بنیادی وسائل سے محروم ہیں، جس کے باعث وہ صوبائی سربراہ کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھانے سے قاصر رہے۔
یہ صورتحال صوبے میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے قائم حکمرانی، گڈ گورننس کے بلند و بانگ دعووں اور سکیورٹی اصلاحات کے بیانیے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جو حکومت سالہا سال سے اختیارات کی مالک ہے، وہ آج وزیراعلیٰ کے ایک ضلع کے دورے کے لیے بھی اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بنیادی تحفظ اور سامانِ حرب فراہم نہیں کر سکی۔
مقامی سطح پر پولیس اہلکاروں اور عوام میں شدید دل برداشتگی اور تشویش پائی جاتی ہے۔ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک طرف پولیس اہلکار روزانہ کی بنیاد پر جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب حکومتی نمائندے اور خود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اکثر شہداء کی نمازِ جنازہ تک میں شرکت کرنا گوارا نہیں کرتے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورۂ بنوں کے دوران رونما ہونے والے اس واقعہ نے ثابت کر دیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ترجیحات اور گڈ گورننس کے تمام دعوے حقیقت سے دور ہیں۔ جب فرنٹ لائن پر لڑنے والی پولیس فورس ہی غیر محفوظ اور بے یارو مددگار ہوگی، تو عام شہری کے تحفظ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا۔