پی ٹی آئی کارکن نے ایک ارب 30 کروڑ روپے کے احتجاجی فنڈز اور بنیادی سہولیات کے فقدان پر قیادت سے کڑے سوالات کرتے ہوئے فوری حساب کا مطالبہ کر دیا۔

October 6, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کا جغرافیائی دائرہ وسیع ہو گیا ہے، جس میں سابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

October 6, 2026

یمن تنازع میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کو اسرائیل سے جوڑنے کی مذموم کوشش؛ ڈیجیٹل میڈیا پر حقائق کے منافی جھوٹا بیانیہ بے نقاب ہو گیا۔

October 6, 2026

طلال چوہدری کا دعویٰ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آخری وقت کی شرائط کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔

October 6, 2026

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ نے سیاسی دعوؤں، تنظیمی صلاحیت اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق کو نمایاں کردیا۔

October 6, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو احتجاج اور دھرنے ختم کرنے کے بعد مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے دروازے بات چیت کیلئے کھلے ہیں۔

October 6, 2026

اسٹاک مارکیٹ میں تاریخ ساز تیزی، انڈیکس 1،33,000 سے اوپر چلا گیا

رواں ہفتے کے آغاز میں اسٹاک مارکیٹ ایکسچینج میں تیزی نظر آئی ہے جس کے نتیجے میں سرمایہ گاروں کے اعتماد، تجارتی معاہدوں میں بہتری، معاشی استحکام اور بہتر مالی نتائج کی امید نے مارکیٹ کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

July 7, 2025

رواں ہفتے کے آغاز میں اسٹاک مارکیٹ ایکسچینج میں تیزی نظر آئی ہے جس کے نتیجے میں سرمایہ گاروں کے اعتماد، تجارتی معاہدوں میں بہتری، معاشی استحکام اور بہتر مالی نتائج کی امید نے مارکیٹ کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔
مارکیٹ کا مرکزی انڈیکس KSE-100 پہلی مرتبہ 133,862.01 تک جا پہنچا، یعنی 1,912.95 یا 1.45٪ پوائینٹس اصافہ ہوا، جبکہ دن کی کم ترین سطح 132,467.12 رہی۔


سرمایہ گاروں کا اعتماد مہنگائی میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور نںٔی سرمایہ کاری کی آمد سے مضبوط ہو رہی ہے ۔ ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں بہتری کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ کہ لوگ اب کم منافع اور زیادہ ٹیکس کی وجہ سے دوسری مارکیٹ چھوڑ کر سٹاک مارکیٹ میں پیسہ لگا رہے ہیں ۔ مارکیٹ میں روزانہ کی تجارت 31 فیصد بڑھ گئی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ زیادہ لوگ اسٹاک مارکیٹ میں دلچسپی لے رہے ہیں۔


یہ تیزی ملک کی معیشت پر اعتماد کا نتیجہ ہے ۔ پاکستان کو چین سے 3.14 ارب ڈالر کا قرض ری فنانس ملا، جبکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک اور عالمی اداروں سے مزید 1.5 ارب ڈالر کی مالی مدد حاصل ہوئی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے کے ذخائر 30 جون تک 14.51 ارب ڈالر تک رہے۔


دوسری جانب مہنگائی میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ جون میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 3.2٪ پر آئی ، جس کے نتیجے میں پورے سال کی اوسط مہنگائی کی شرح 4.5٪ تک آگئی جو پچھلے سال (2024) 23.4٪ پر تھی۔
اس سے شرح سود کم ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، جو اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کو مزید فائدہ مند بنا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

پی ٹی آئی کارکن نے ایک ارب 30 کروڑ روپے کے احتجاجی فنڈز اور بنیادی سہولیات کے فقدان پر قیادت سے کڑے سوالات کرتے ہوئے فوری حساب کا مطالبہ کر دیا۔

October 6, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کا جغرافیائی دائرہ وسیع ہو گیا ہے، جس میں سابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

October 6, 2026

یمن تنازع میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کو اسرائیل سے جوڑنے کی مذموم کوشش؛ ڈیجیٹل میڈیا پر حقائق کے منافی جھوٹا بیانیہ بے نقاب ہو گیا۔

October 6, 2026

طلال چوہدری کا دعویٰ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آخری وقت کی شرائط کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔

October 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *