کبل واقعے پر پی ٹی ایم کی پالیسی؟ ریاست مخالف بیانیے پر شدید تنقید

کبل میں افغان خودکش بمبار کے حملے کے بعد پی ٹی ایم نے دہشت گردوں کی مذمت کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن بیانیے کا سہارا لیا ہے۔
پی ٹی ایم کا ریاست مخالف بیانیہ

کبل خودکش حملے کے بعد پی ٹی ایم کا ریاست مخالف بیانیہ بے نقاب ہو گیا۔ افغان حملہ آور کی شمولیت کے باوجود پی ٹی ایم نے فتنہ الخوارج کی پردہ پوشی کی کوشش کی

August 4, 2026

سوات کے علاقے کبل میں ہونے والے خودکش حملے میں شہریوں اور پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد نے جامِ شہادت نوش کیا۔ جہاں ایک طرف فورسز اور پولیس امن و امان کی بحالی کے لیے سرگرم عمل ہیں، وہاں دوسری جانب پی ٹی ایم نے حسبِ معمول دہشت گردوں کی پردہ پوشی کرتے ہوئے ریاست مخالف بیانیے کا سہارا لیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے میں ملوث خودکش بمبار افغان شہری تھا، جس کا تعلق ٹی ٹی پی سے ہے۔ اس واقعہ ثابت کیا کہ سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کار پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے درپے ہیں۔ تاہم پی ٹی ایم جیسے گروہ غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والے ان دہشت گردوں کی مذمت کرنے کے بجائے ملکی سلامتی کے ذمہ داروں کو ہدف بنا رہے ہیں۔

کبل واقعے میں پولیس نے سکیورٹی کے پیش نظر منتظمین کو ہدایات اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔ لیکن سکیورٹی فورسز کی ہدایات کو نظر انداز کرنے کے باعث اسکا براہ راست فائدہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے اٹھایا۔

ریاستی اداروں کے خلاف زہر اگلنا اور دشمن پالیسیوں کو تقویت دینا پی ٹی ایم کا پرانا طریقہ کار رہا ہے۔ جب بھی فورسز یا بے گناہ شہری دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں، ان دہشت گردوں کا نام تک لینے سے گریز کرتی ہے۔ پی ٹی ایم کی تمام تر پالیسی کا مقصد عوام میں بددلی پیدا کرنا، پشتون قوم کے نام پر سیاست چمکانا اور دہشت گردی کے اصل محرکات پر پردہ ڈالنا ہے۔

فورسز نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے مشترکہ آپریشن کے دوران حملے کے مرکزی کردار صبغت اللہ عرف ابو دجانہ سمیت متعدد دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ پولیس اورفورسز کے بڑھتے ہوئے قدم اور عوام کا اتحاد اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی ایم کے گمراہ کن بیانیے سے قطع نظر، پاکستان سے دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ ہوگا۔

دیکھیے: کبل خودکش دھماکا: تحقیقات میں بڑا انکشاف، بمبار افغان شہری نکلا

متعلقہ مضامین

کالعدم بی ایل اے نے بشیر زیب بلوچ کو کمانڈر ان چیف کے عہدے سے الگ کر کے تمام اختیارات سینئر کمانڈ کونسل کے سپرد کر دیے ہیں۔

November 4, 2026

بلوچستان اور لکی مروت میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران خودکش بمبار سمیت 19 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے، پاک فوج کا ایک سپاہی شہید ہوا۔

November 4, 2026

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *