سوات کے علاقے کبل میں گزشتہ کل پولیس اسٹیشن کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
امدادی اداروں اور علاقائی پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک کو شدت پسندی کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے۔
گزشتہ روز دھماکے کے وقت اسی مقام پر مقامی شہریوں کی جانب سے پولیس کی حمایت میں ایک ریلی بھی منعقد کی جا رہی تھی، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے کا اصل ہدف ریلی تھی یا پولیس اسٹیشن۔
علاقائی پولیس افسر فدا حسین نے رائٹرز کو بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں پانچ پولیس اہلکار، آٹھ عام شہری اور ایک مبینہ خودکش حملہ آور شامل ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق اس واقعے میں کم از کم 18 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے حملے کے سہولت کاروں کی تلاش شروع کر دی ہے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ایک باقاعدہ بیان کے ذریعے اس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کبل میں ہونے والے خودکش دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں زیادہ تر سکیورٹی فورسز اور پولیس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔