سوات میں ہونے والے خودکش حملے سے متعلق سامنے آنے والی تازہ ترین رپورٹس میں حملہ آور کا سنسنی خیز ماضی اور اہم تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ آور اس سے قبل بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں رہ چکا تھا اور اسے 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
دورانِ تفتیش پولیس نے ملزم کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا، تاہم عدالت میں شواہد ناکافی ہونے کی بنیاد پر اسے بری کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق عدالت سے رہائی کے بعد وہ سرحد پار افغانستان چلا گیا، جہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد وہ دوبارہ پاکستان میں داخل ہوا اور سوات میں خودکش حملہ کر دیا۔
اس واقعے سے یہ بات ایک بار پھر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ افغان سرزمین ہی ان عناصر کا اصل اور محفوظ ٹھکانہ بنی ہوئی ہے۔
حملہ آور کا بریت کے بعد افغانستان فرار ہونا اور وہاں سے واپس آ کر کارروائی کرنا اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان کے افغانستان کی جانب سے مسلسل سرحد پار دہشت گردی کے تحفظات ہمیشہ درست ثابت ہوتے چلے آ رہے ہیں۔
دیکھیے: خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، متعدد خوارج جہنم واصل