شام میں طویل عرصے سے جاری سیاسی و عسکری بحران کے خاتمے کی جانب اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ صدر احمد الشرع کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے اور ملک بھر میں جنگ بندی معاہدے کی حتمی منظوری دے دی گئی۔
اعلامیے کے مطابق معاہدے کو شام کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی وحدت کی بحالی کی سمت میں ایک “فیصلہ کُن اقدام” قرار دیا گیا ہے۔ جس کے تحت ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں کو مرحلہ وار شامی مسلح افواج میں ضم کیا جائے گا، جبکہ شمال مشرقی شام کے انتظامی اور سکیورٹی امور براہِ راست مرکزی حکومت کے کنٹرول میں آجائیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ایس ڈی ایف کے اراکین کو جدید فوجی تربیت فراہم کرنے کے بعد مختلف سرحدی اور اہم علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔ معاہدے میں شام کے تیل سے مالامال علاقوں کے انتظامی کنٹرول کو بھی مرکزی حکومت کے حوالے کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ کو وزارتِ داخلہ کے تحت منظم کیا جائے گا۔
السيّد الرئيس أحمد الشرع يوقّع اتفاقية وقف إطلاق النار والاندماج الكامل لقوات سوريا الديمقراطية ضمن مؤسسات الدولة السورية.#رئاسة_الجمهورية_العربية_السورية pic.twitter.com/upMKA5FhZU
— رئاسة الجمهورية العربية السورية (@SyPresidency) January 18, 2026
اسی طرح ایس ڈی ایف کی سیاسی نمائندگی کو شامی پارلیمان میں شامل کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی ہے، تاہم تمام علاقائی اختیارات شامی آئین کے دائرہ کار میں رہیں گے۔
بین الاقوامی سطح پر روسی وزارت خارجہ نے اس معاہدے کی تعریف کی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی گیر پڈرسن نے اسے “امن عمل کے لیے ایک حوصلہ افزا پیشرفت” قرار دیا ہے۔
دیکھیں: ایران کے خلاف مختلف اقدامات پر غور کر رہے ہیں جس میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے: ٹرمپ