پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور معروف مذہبی رہنما حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ عالم اسلام کے نامور علما پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جائے جو یہ فیصلہ کرے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والے حملے شرعی، اخلاقی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جائز ہیں یا نہیں۔
اتوار کو جاری بیان میں طاہر اشرفی نے کہا کہ گزشتہ چند روز سے افغانستان کے موجودہ نظام سے وابستہ بعض علمی اور دینی شخصیات سوشل میڈیا پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پر اظہارِ خیال کر رہی ہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں پہل کس جانب سے ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر بے گناہ شہریوں اور بچوں کی قربانیوں کا ذکر کیا جائے تو پاکستان میں دہشتگردی کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں سکولوں اور تعلیمی اداروں تک کو نشانہ بنایا گیا، جس کے زخم آج بھی پاکستانی معاشرے میں تازہ ہیں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ وہ نہ صرف سابق افغان حکومتوں کے ادوار بلکہ موجودہ صورتحال کا بھی حوالہ دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق افغان طالبان کی حکومت آنے کے بعد پاکستان میں مساجد کے اندر ہونے والے حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے، جبکہ اس میں عوامی مقامات، فوج، پولیس اور سیکیورٹی اداروں پر ہونے والے حملے شامل نہیں کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اس مسئلے کے حل کے لیے دوست ممالک جیسے قطر، چین، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے بھی متعدد بار رابطے کیے، مگر اس کے باوجود کابل، جلال آباد اور قندھار سے پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات سامنے آتے رہے۔
طاہر اشرفی نے افغان وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کے ایک حالیہ انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت ایسے عناصر کی سرپرستی کر رہی ہے جو افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔
افغان طالبان کی حکومت آنے کے بعد پاکستان میں صرف مساجد کے اندر ہونے والے حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے، اگر پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو پاکستان اپنی حفاظت کے لیے جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے؛ علامہ طاہر اشرفی@TahirAshrafi pic.twitter.com/KcSoGrhked
— HTN Urdu (@htnurdu) March 15, 2026
انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کے علما کی جانب سے تقریباً ایک ہزار علما پر مشتمل ایک اعلامیہ جاری کیا گیا تھا، تاہم سوال یہ ہے کہ آیا افغان عبوری حکومت نے اس اعلامیے پر عملدرآمد کیا یا نہیں۔ ان کے مطابق اگر اس پر عمل نہیں کیا گیا تو خطے میں کشیدگی کب تک جاری رہے گی۔
طاہر اشرفی نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں موجود بعض عناصر بھارت اور اسرائیل کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو افغانستان کی حکومت، اس کی سرزمین یا وسائل سے کوئی غرض نہیں اور پاکستان افغانستان کو ایک آزاد اور خودمختار ملک تسلیم کرتا ہے۔
انہوں نے افغان قیادت سے مطالبہ کیا کہ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ واضح اعلان کریں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور اس میں ملوث عناصر کو گرفتار کر کے سزا دی جائے گی۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ اگر خطے میں پائیدار امن قائم کرنا ہے تو مکہ مکرمہ میں عالم اسلام کے علما کا اجلاس بلایا جا سکتا ہے جہاں قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کا فیصلہ کیا جائے۔ ان کے مطابق علما کی ایسی کمیٹی اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگردی شرعی، اخلاقی اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق جائز ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ اگر اس کے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو ملک اپنی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ طاہر اشرفی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پر رحم فرمائے اور خطے میں امن و استحکام قائم ہو۔