اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ویمن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک خواتین اور لڑکیوں کے خلاف 100 سے زائد احکامات جاری کیے جا چکے ہیں، جن کے ذریعے تعلیم، روزگار، عوامی زندگی، عدالتی نظام اور صحت کی سہولیات تک رسائی کو منظم انداز میں محدود کیا گیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ افغانستان اس لحاظ سے دنیا میں ایک منفرد مثال بن چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پابندیاں برقرار رہنے کی صورت میں 2030 تک ملک کو 25 ہزار سے زائد خواتین اساتذہ اور طبی کارکنوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ 2026 میں 10 لاکھ 70 ہزار سے زائد افغان خواتین اور لڑکیوں کو انسانی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ لگ بھگ 24 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہیں، اور افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کو باضابطہ طور پر یونیورسٹی تعلیم سے روکا گیا ہے۔
خواتین کی نقل و حرکت
یو این ویمن کے سروے کے مطابق نصف افغان خواتین مہینے میں صرف ایک یا دو بار ہی گھر سے باہر نکل پاتی ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں خواتین مرد محرم کے بغیر باہر جانے کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔ سخت پابندیوں کے باعث افغان خواتین میں ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ہرات واقعہ
اقوامِ متحدہ کے مشن ان افغانستان (یوناما) کے مطابق جون میں مغربی شہر ہرات میں طالبان کی نام نہاد اخلاقی پولیس نے مبینہ ڈریس کوڈ خلاف ورزیوں پر کم از کم 30 خواتین کو گرفتار کیا۔ ان گرفتاریوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کو طالبان فورسز نے طاقت کے زورپر منتشر کیا، جس میں یوناما کے مطابق کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ مقامی ذرائع اور عالمی نشریاتی اداروں نے ہلاکتوں کی تعداد دو تک بتائی۔
سابق فوجیوں کے خلاف کارروائیاں
عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیو ایف پی) کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں غذائی قلت کی صورتحال سنگین ہے، جہاں لاکھوں بچے اور حاملہ خواتین شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت کارروائیوں کی بھی نشاندہی کی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ
ہیومن رائٹس واچ کی افغانستان کے امور کی محقق فرشتہ عباسی کے مطابق، طالبان اقتدار کی پانچویں برسی جوابدہی کے فقدان کے تباہ کن نتائج کی یاد دہانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی حکومتوں کو محض تشویش کے بیانات سے آگے بڑھ کر افغانستان میں سنگین جرائم پر انصاف کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے، جن میں خواتین کے خلاف جنسی بنیادوں پر ظلم و ستم بھی شامل ہے۔
تنظیم کے مطابق افغانستان اب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو چھٹی جماعت کے بعد تعلیم سے روکا گیا ہے، جبکہ عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) طالبان کی اعلیٰ قیادت کے خلاف صنفی جبر کے الزام میں وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر چکی ہے۔
دیکھیے: جنرل یاسین ضیا کا طالبان مخالف مسلح مزاحمت کو سیاسی تحریک میں بدلنے پر زور