کابل: طالبان کے سینئر باغی کمانڈر حاجی جمعہ خان فتح نے پہلی مرتبہ کھلے عام اعتراف کیا ہے کہ مختلف غیر ملکی عسکریت پسند گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔ ان کا یہ بیان طالبان حکومت کے ان مسلسل دعوؤں اور انکار کی نفی کرتا ہے جن میں وہ افغان سرزمین پر کسی بھی عسکریت پسند گروہ کی موجودگی سے انکار کرتے رہے ہیں۔
جمعہ خان فتح نے واضح کیا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ غیر ملکی عسکریت پسندوں کی موجودگی کے مخالف رہے ہیں اور وہ ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جن کا مقصد ان عناصر کا خاتمہ اور مزید شہری جانی نقصان کو روکنا ہو۔
عالمی اداروں کے خدشات
تجزیہ کاروں کے مطابق سب سے اہم اعتراف خود طالبان کی صفوں سے سامنے آیا ہے، جہاں ان کے اپنے ایک اعلیٰ کمانڈر نے عملاً ان حقائق کی تصدیق کر دی ہے جن سے اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور خطے کے ممالک برسوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں۔
جمعہ خان فتح کا کہنا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف ہیں، جس کے بعد اب طالبان حکومت ان عناصر کی موجودگی سے انکار نہیں کر سکتی۔
بدخشان پر کنٹرول
باغی کمانڈر نے انکشاف کیا کہ درواز اور بدخشان کے معدنی وسائل سے مالا مال اسٹریٹجک علاقے اب بھی ان کے زیرِ کنٹرول ہیں، جو قندھار کی مرکزی قیادت کے کمزور ہوتے ہوئے روایتی اثر و رسوخ کو نمایاں کرتا ہے۔
طالبان کے سرکاری وفد اور جمعہ خان فتح کے درمیان مذاکرات کی ناکامی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ طالبان حکومت اب اتفاقِ رائے کے بجائے دباؤ اور طاقت کے ذریعے حکمرانی کر رہی ہے، جس کی وجہ سے درواز کی جانب طالبان کے فوجی قافلے روانہ کیے جا رہے ہیں۔
داخلی اختلافات اور سیکیورٹی صورتحال
بدخشان کے قیمتی معدنی وسائل پر کنٹرول اب ایک نئی کشمکش کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس نے طالبان حکومت کے اندر اقتدار، وسائل اور اثر و رسوخ پر گہرے اختلافات کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔
قندھار کی قیادت جہاں اپنے اندرونی اختلافِ رائے کو دبانے میں مصروف ہے، وہیں دوسری طرف عسکریت پسند تنظیمیں افغان سرزمین سے اپنی سرگرمیاں بلا روک ٹوک جاری رکھے ہوئے ہیں، جو طالبان کے انسدادِ دہشت گردی کے دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ جمعہ خان فتح کا یہ بیان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طالبان حکومت داخلی یکجہتی برقرار رکھنے اور سکیورٹی کے وعدوں پر عمل درآمد میں بری طرح ناکام ہو رہی ہے۔