افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

July 3, 2026

امریکہ نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کے فضائی حملوں کو شہریوں اور سرزمین کے دفاع کا جائز حق قرار دے دیا۔

July 3, 2026

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 3 خوارج کو ہلاک کر دیا، علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

July 3, 2026

افغان باغی طالبان کمانڈر حاجی جمعہ خان فتح نے افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے حکومتی دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔

July 3, 2026

بنوں کینٹ حملے میں ملوث افغان دہشت گرد کی افغانستان میں تعزیتی تقریب پر یوناما کی خاموشی نے عالمی ادارے کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ اس کے دوہرے معیار پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔

July 3, 2026

طالبان کے منحرف کمانڈر نے عسکریت پسندوں کی موجودگی کی تصدیق کر دی

افغان باغی طالبان کمانڈر حاجی جمعہ خان فتح نے افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے حکومتی دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔
افغان باغی طالبان کمانڈر حاجی جمعہ خان فتح نے افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے حکومتی دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔

باغی طالبان کمانڈر جمعہ خان نے افغانستان میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کی موجودگی کا اعتراف کر کے حکومتی دعووں کو جھوٹا ثابت کر دیا۔

July 3, 2026

کابل: طالبان کے سینئر باغی کمانڈر حاجی جمعہ خان فتح نے پہلی مرتبہ کھلے عام اعتراف کیا ہے کہ مختلف غیر ملکی عسکریت پسند گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔ ان کا یہ بیان طالبان حکومت کے ان مسلسل دعوؤں اور انکار کی نفی کرتا ہے جن میں وہ افغان سرزمین پر کسی بھی عسکریت پسند گروہ کی موجودگی سے انکار کرتے رہے ہیں۔

جمعہ خان فتح نے واضح کیا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ غیر ملکی عسکریت پسندوں کی موجودگی کے مخالف رہے ہیں اور وہ ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جن کا مقصد ان عناصر کا خاتمہ اور مزید شہری جانی نقصان کو روکنا ہو۔

عالمی اداروں کے خدشات

تجزیہ کاروں کے مطابق سب سے اہم اعتراف خود طالبان کی صفوں سے سامنے آیا ہے، جہاں ان کے اپنے ایک اعلیٰ کمانڈر نے عملاً ان حقائق کی تصدیق کر دی ہے جن سے اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور خطے کے ممالک برسوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں۔

جمعہ خان فتح کا کہنا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف ہیں، جس کے بعد اب طالبان حکومت ان عناصر کی موجودگی سے انکار نہیں کر سکتی۔

بدخشان پر کنٹرول

باغی کمانڈر نے انکشاف کیا کہ درواز اور بدخشان کے معدنی وسائل سے مالا مال اسٹریٹجک علاقے اب بھی ان کے زیرِ کنٹرول ہیں، جو قندھار کی مرکزی قیادت کے کمزور ہوتے ہوئے روایتی اثر و رسوخ کو نمایاں کرتا ہے۔

طالبان کے سرکاری وفد اور جمعہ خان فتح کے درمیان مذاکرات کی ناکامی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ طالبان حکومت اب اتفاقِ رائے کے بجائے دباؤ اور طاقت کے ذریعے حکمرانی کر رہی ہے، جس کی وجہ سے درواز کی جانب طالبان کے فوجی قافلے روانہ کیے جا رہے ہیں۔

داخلی اختلافات اور سیکیورٹی صورتحال

بدخشان کے قیمتی معدنی وسائل پر کنٹرول اب ایک نئی کشمکش کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس نے طالبان حکومت کے اندر اقتدار، وسائل اور اثر و رسوخ پر گہرے اختلافات کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔

قندھار کی قیادت جہاں اپنے اندرونی اختلافِ رائے کو دبانے میں مصروف ہے، وہیں دوسری طرف عسکریت پسند تنظیمیں افغان سرزمین سے اپنی سرگرمیاں بلا روک ٹوک جاری رکھے ہوئے ہیں، جو طالبان کے انسدادِ دہشت گردی کے دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ جمعہ خان فتح کا یہ بیان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طالبان حکومت داخلی یکجہتی برقرار رکھنے اور سکیورٹی کے وعدوں پر عمل درآمد میں بری طرح ناکام ہو رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

July 3, 2026

امریکہ نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کے فضائی حملوں کو شہریوں اور سرزمین کے دفاع کا جائز حق قرار دے دیا۔

July 3, 2026

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 3 خوارج کو ہلاک کر دیا، علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

July 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *