سپاہیانِ میہن فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ بدخشان کے ضلع لوئر یفتل پر قبضے کے بعد طالبان نے مزاحمتی جنگجوؤں کا سامنا کرنے کے بجائے عام شہریوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کر دیں۔
فرنٹ کے مطابق درجنوں ایسے نوجوان گرفتار کیے گئے جن کا مزاحمتی گروہوں سے کوئی تعلق نہیں تھا، جنہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پوچھ گچھ کی گئی اور جھوٹے اعترافات پر مجبور کیا گیا۔
فرنٹ کا کہنا ہے کہ میدانِ جنگ میں پیش آنے والی ناکامی نے ایک بار پھر ظاہر کیا کہ طالبان اقتدار برقرار رکھنے کے لیے حکمرانی کے بجائے خوف، دھونس اور اجتماعی سزا کے طریقۂ کار پر انحصار کرتے ہیں۔
بیان کے مطابق جبری اعترافات، من مانی گرفتاریاں اور دباؤ کے تحت تفتیش طالبان کے طرزِ حکمرانی کا مستقل حصہ بن چکے ہیں۔ سپاہیانِ میہن فرنٹ نے یہ بھی الزام لگایا کہ طالبان کی جانب سے جاری کی جانے والی ویڈیوز زیرِ حراست افراد کے ساتھ مبینہ جبر آمیز سلوک ظاہر کرتی ہیں، جو قانون کی حکمرانی سے متعلق ان کے دعووں سے متصادم ہے۔
فرنٹ کے مؤقف کے مطابق طالبان کو جب بھی عسکری میدان میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے تو اس کے بعد عام شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا جاتا ہے، جسے فرنٹ نے جبر پر انحصار کی عکاسی قرار دیا۔
بیان میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ من مانی حراست، تشدد اور دھمکیاں کمیونٹیز کو خاموش کرانے اور اختلافِ رائے دبانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کی جاتی ہیں۔
سپاہیانِ میہن فرنٹ نے اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور نگرانی کرنے والے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کے ساتھ طالبان کے مبینہ سلوک کی تحقیقات کریں اور ذمہ دار عناصر کو جوابدہ ٹھہرائیں۔