افغانستان کے صوبہ پکتیا میں طالبان کے نائب وزیر دفاع حمیداللہ اخوندزادہ کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حملے کی ذمہ داری طالبان مخالف مسلح گروپ افغانستان فریڈم فرنٹ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق قافلے میں شیرزمان المعروف مخلص یار بھی موجود تھے۔ جو تحریک طالبان پاکستان کے میڈیا ونگ عمر میڈیا سے وابستہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق حملے کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جبکہ آخری اطلاعات تک یہ جھڑپ جاری تھی۔ واقعے میں ممکنہ جانی نقصان یا زخمیوں سے متعلق تاحال کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ حملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت مسلسل زور پکڑتی جا رہی ہے۔ پنجشیر اور بدخشاں کے بعد اب یہ مزاحمتی کارروائیاں دیگر صوبوں تک بھی پھیلتی دکھائی دے رہی ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی افغان فریڈم فرنٹ نے صوبہ بغلان کے ضلع دوشی میں طالبان کے ایک عسکری قافلے پر راکٹ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں تنظیم کے مطابق سات اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوئے تھے۔ اسی طرح دو روز کے دوران مختلف جھڑپوں میں طالبان کے چار کمانڈر بھی مارے گئے۔
بدخشاں سے پکتیا تک
اس سے قبل صوبہ بدخشاں کے اضلاع یفتل اور زیباک میں بھی طالبان مخالف کارروائیوں میں تیزی دیکھی گئی تھی، جہاں افغانستان فریڈم فرنٹنے طالبان کے فوجی ڈرون مار گرانے اور ہیلی کاپٹروں کی لینڈنگ روکنے کے دعوے بھی کیے تھے۔
یکے بعد دیگرے مختلف صوبوں میں سامنے آنے والے ان واقعات سے سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا طالبان حکومت پورے ملک پر اپنے کنٹرول کے دعوے کے باوجود بڑھتی ہوئی مزاحمت کو مؤثر طریقے سے روک پانے میں کامیاب ہے۔ تاحال طالبان حکومت کی جانب سے اس حملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دیکھیے: سرِ پل میں مسلح مزاحمت کاروں کا طالبان پر حملہ: 1 اہلکار ہلاک