معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر ابراہیم المراشی نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی نسلی بنیادوں پر اجارہ دارانہ حکومت اور غیر شمولیتی نظام اندرونی مزاحمت اور علاقائی عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے

February 24, 2026

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع ریوا میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے جہاں دو نچلی ذات کی خواتین کو ٹرک سے بجری ڈال کر زندہ دفن کرنے کی کوشش کی گئی، جنہیں مقامی لوگوں نے بروقت بچا لیا

February 24, 2026

بلوچستان میں “لاپتہ افراد” کے نام پر چلائی جانے والی مہمات کا پول اس وقت کھل گیا جب بی وائی سی کی جانب سے برسوں “لاپتہ” قرار دیے جانے والے سلیم بلوچ کو بی ایل اے نے اپنا دہشت گرد کمانڈر تسلیم کر لیا، جس سے ان تنظیموں کا جھوٹا بیانیہ مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے

February 24, 2026

افغان وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے پاکستان کے خلاف انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز زبان استعمال کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کی اعلیٰ قیادت نے فیصلہ کیا تو پاکستان کا وجود باقی نہیں رہے گا

February 24, 2026

عدالتی احکامات کو مسلسل نظرانداز کرنے اور بارہا طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر عدالت نے علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ حکومتی حلقوں نے اسے قانون کی بالادستی کی جیت قرار دیا ہے

February 24, 2026

افغان طالبان کے اہم رُکن عبدالحمید خراسانی نے ‘طلوع نیوز’ کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستان سمیت عالمی دنیا کے خلاف خودکش حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کی حمایت کا اعتراف کر لیا ہے

February 24, 2026

افغانستان میں طالبان کی نسلی اجارہ داری علاقائی عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے: ڈاکٹر ابراہیم المراشی

معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر ابراہیم المراشی نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی نسلی بنیادوں پر اجارہ دارانہ حکومت اور غیر شمولیتی نظام اندرونی مزاحمت اور علاقائی عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے
معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر ابراہیم المراشی نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی نسلی بنیادوں پر اجارہ دارانہ حکومت اور غیر شمولیتی نظام اندرونی مزاحمت اور علاقائی عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے

کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم المراشی نے ایشیا ون کو دیے گئے انٹرویو میں افغانستان میں طاقت کے عدمِ توازن، نسلی گروہوں کی سیاسی محرومی اور سرحد پار دہشت گردی کے خطرات کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے

February 24, 2026

کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی سان مارکوس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم المراشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کا نظامِ حکومت نسلی اعتبار سے محدود اور اجارہ دارانہ ہے، جس کی وجہ سے اندرونی مزاحمت، علاقائی تشویش اور عدمِ استحکام میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹام فِل پوٹ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے افغانستان کے سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز پر اہم گفتگو کی۔

ڈاکٹر ابراہیم المراشی کے مطابق 2021 میں طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد تاجک، ہزارہ، ازبک اور ترکمن جیسے نسلی گروہ بامعنی سیاسی طاقت سے مکمل طور پر محروم ہو چکے ہیں اور انہیں شدید سیاسی تنہائی اور غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت غلزئی پشتونوں کے زیرِ اثر ہے، جس کی وجہ سے اقتدار کی بنیاد انتہائی محدود ہو گئی ہے اور حکومت اتفاقِ رائے کے بجائے جبر کے اصول پر چل رہی ہے۔

دورانِ انٹرویو ڈاکٹر ابراہیم نے تاریخی تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کا تاجکوں کے ساتھ، بالخصوص پنجشیر میں احمد شاہ مسعود کی قیادت میں رہنے والی مزاحمتی فورسز کے ساتھ ٹکراؤ کا ایک روایتی تسلسل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1990 کی دہائی میں بھی القاعدہ نے طالبان کے اسی نسلی تصادم پر انحصار کرتے ہوئے افغانستان میں جگہ حاصل کی تھی۔

سکیورٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان اسلامک اسٹیٹ خراسان اور تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو لگام دینے میں ناکام رہے ہیں، جو علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم نے پاکستان کے سرحدی سکیورٹی خدشات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرحد کے پار شدت پسندوں کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

پروفیسر المراشی نے اختتام پر کہا کہ اگرچہ ہمسایہ ممالک نسلی یکجہتی کے بجائے اپنے استحکام کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن کابل کی غیر شمولیتی حکومت کی ناکامی علاقائی اعتماد کو متاثر کر رہی ہے۔ جب تک افغانستان میں ایک مضبوط شمولیتی نظام قائم نہیں ہوتا اور تمام نسلی گروہوں کو نمائندگی نہیں ملتی، تب تک پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔

دیکھیے: افغانستان میں 23 ہزار غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی: روسی وزارتِ خارجہ نے رپورٹ جاری کردی

متعلقہ مضامین

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع ریوا میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے جہاں دو نچلی ذات کی خواتین کو ٹرک سے بجری ڈال کر زندہ دفن کرنے کی کوشش کی گئی، جنہیں مقامی لوگوں نے بروقت بچا لیا

February 24, 2026

بلوچستان میں “لاپتہ افراد” کے نام پر چلائی جانے والی مہمات کا پول اس وقت کھل گیا جب بی وائی سی کی جانب سے برسوں “لاپتہ” قرار دیے جانے والے سلیم بلوچ کو بی ایل اے نے اپنا دہشت گرد کمانڈر تسلیم کر لیا، جس سے ان تنظیموں کا جھوٹا بیانیہ مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے

February 24, 2026

افغان وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے پاکستان کے خلاف انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز زبان استعمال کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کی اعلیٰ قیادت نے فیصلہ کیا تو پاکستان کا وجود باقی نہیں رہے گا

February 24, 2026

عدالتی احکامات کو مسلسل نظرانداز کرنے اور بارہا طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر عدالت نے علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ حکومتی حلقوں نے اسے قانون کی بالادستی کی جیت قرار دیا ہے

February 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *