کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی سان مارکوس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم المراشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کا نظامِ حکومت نسلی اعتبار سے محدود اور اجارہ دارانہ ہے، جس کی وجہ سے اندرونی مزاحمت، علاقائی تشویش اور عدمِ استحکام میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹام فِل پوٹ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے افغانستان کے سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز پر اہم گفتگو کی۔
ڈاکٹر ابراہیم المراشی کے مطابق 2021 میں طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد تاجک، ہزارہ، ازبک اور ترکمن جیسے نسلی گروہ بامعنی سیاسی طاقت سے مکمل طور پر محروم ہو چکے ہیں اور انہیں شدید سیاسی تنہائی اور غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت غلزئی پشتونوں کے زیرِ اثر ہے، جس کی وجہ سے اقتدار کی بنیاد انتہائی محدود ہو گئی ہے اور حکومت اتفاقِ رائے کے بجائے جبر کے اصول پر چل رہی ہے۔
دورانِ انٹرویو ڈاکٹر ابراہیم نے تاریخی تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کا تاجکوں کے ساتھ، بالخصوص پنجشیر میں احمد شاہ مسعود کی قیادت میں رہنے والی مزاحمتی فورسز کے ساتھ ٹکراؤ کا ایک روایتی تسلسل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1990 کی دہائی میں بھی القاعدہ نے طالبان کے اسی نسلی تصادم پر انحصار کرتے ہوئے افغانستان میں جگہ حاصل کی تھی۔
سکیورٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان اسلامک اسٹیٹ خراسان اور تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو لگام دینے میں ناکام رہے ہیں، جو علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم نے پاکستان کے سرحدی سکیورٹی خدشات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرحد کے پار شدت پسندوں کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
پروفیسر المراشی نے اختتام پر کہا کہ اگرچہ ہمسایہ ممالک نسلی یکجہتی کے بجائے اپنے استحکام کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن کابل کی غیر شمولیتی حکومت کی ناکامی علاقائی اعتماد کو متاثر کر رہی ہے۔ جب تک افغانستان میں ایک مضبوط شمولیتی نظام قائم نہیں ہوتا اور تمام نسلی گروہوں کو نمائندگی نہیں ملتی، تب تک پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔
دیکھیے: افغانستان میں 23 ہزار غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی: روسی وزارتِ خارجہ نے رپورٹ جاری کردی