دہشتگردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی مشکلات، کمزور ادارے اور سماجی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اس لیے اس کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی درکار ہے۔

March 21, 2026

انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو اندرونی خلفشار سے دوچار کر دینا کتنا بڑا جرم ہو گا۔ ان کی محبت عقیدت کا گھنٹہ گھر ایک شخص ہے ۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے ان کی جانے بلا۔

March 21, 2026

آرمی چیف نے ایران کے حوالے سے گفتگو میں واضح کیا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور خطے میں جنگی کشیدگی کم کرنے کیلئے کردار ادا کر رہا ہے

March 20, 2026

بڑی تعداد میں فلسطینی مسجد میں داخل نہ ہو سکے اور انہیں باہر ہی نماز ادا کرنا پڑی۔ اس اقدام کو فلسطینی حلقوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے

March 20, 2026

نیتن یاہو نے ایک بیان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا موازنہ منگول حکمران چنگیز خان سے کیا اور طاقت و جارحیت سے متعلق گفتگو کی

March 20, 2026

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 48 پوائنٹس کے ساتھ رینکنگ میں پانچویں نمبر پر رہی

March 20, 2026

طالبان کی بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ: 1,136 سرکاری ملازمین برطرف، 1,555 نئے وفادار تعینات

ذرائع کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جنوری 2022 میں ملا ہیبت اللہ نے ایک جامع پالیسی متعارف کروائی تھی، جس کے تحت ملک بھر کے تعلیمی اداروں، بشمول کابل یونیورسٹی، کا نصاب تبدیل کیا گیا۔ اس نئے نصاب کو طالبان کی سخت گیر، رجعت پسند اور مخصوص پشتون روایات سے ہم آہنگ کیا گیا، تاکہ ریاستی ڈھانچے پر مکمل نظریاتی گرفت قائم کی جا سکے۔
طالبان کی بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ: 1,136 سرکاری ملازمین برطرف، 1,555 نئے وفادار تعینات

ذرائع کے مطابق مولوی ندا محمد ندیم کی سفارش پر 22 دسمبر 2025 کو طالبان قیادت نے مجموعی طور پر 90 ہزار سرکاری اسامیوں کے خاتمے کا اعلان کیا، جبکہ اس کے ساتھ ہی طالبان کے مخصوص نظریاتی مدارس کے لیے 100 ہزار نئی اسامیاں قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

January 19, 2026

افغانستان میں طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ریاستی اداروں پر مکمل نظریاتی اور انتظامی کنٹرول کے لیے بڑے پیمانے پر تطہیری عمل کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت سابقہ حکومت کے دور میں بھرتی کیے گئے 1,136 سرکاری ملازمین کو برطرف جبکہ طالبان سے وابستہ 1,555 وفادار افراد کو مختلف سرکاری اداروں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جنوری 2022 میں ملا ہیبت اللہ نے ایک جامع پالیسی متعارف کروائی تھی، جس کے تحت ملک بھر کے تعلیمی اداروں، بشمول کابل یونیورسٹی، کا نصاب تبدیل کیا گیا۔ اس نئے نصاب کو طالبان کی سخت گیر، رجعت پسند اور مخصوص پشتون روایات سے ہم آہنگ کیا گیا، تاکہ ریاستی ڈھانچے پر مکمل نظریاتی گرفت قائم کی جا سکے۔ اس عمل کے دوران سائنسی، سماجی اور جدید علوم کو یا تو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا یا انتہائی محدود کر دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دری، پشتو اور سماجی علوم کی درسی کتب سے مجموعی طور پر 51 مضامین حذف کیے گئے ہیں۔ اسلامیات کے شعبے میں بھی صرف حنفی فقہ کے دیوبندی مکتب فکر، اور وہ بھی مخصوص تعبیرات کے تحت تعلیم کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ دیگر فقہی مکاتب فکر کے پیروکاروں کے لیے تعلیم کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ حنفی فقہ کے اندر بھی صرف وہی آرا قابل قبول سمجھی جا رہی ہیں جو ملا ہیبت اللہ اور ان کے قریبی حلقے سے مطابقت رکھتی ہوں۔

طالبان حکومت کا مقصد ایک ایسی نسل تیار کرنا بتایا جا رہا ہے جو مکمل طور پر ان کے نظریاتی اہداف سے ہم آہنگ ہو۔ اسی مقصد کے تحت طالبان سے وابستہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو رسمی تعلیمی اسناد سے استثنیٰ دیتے ہوئے براہِ راست جامعات میں داخلہ دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ داخلے صرف پشتون اور قندھاری طالبان عناصر تک محدود رکھے گئے۔

تین سال بعد، 17 جنوری 2026 کو ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس کے تحت ان 1,555 منتخب طالبان افراد کو، جو اس مخصوص نصاب کے تحت تعلیم مکمل کر چکے تھے، مختلف سرکاری وزارتوں اور محکموں میں تعینات کیا گیا۔ اسی روز 1,136 سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ان برطرفیوں کی وجہ کسی قسم کی بدعنوانی یا جرم نہیں تھی بلکہ صرف سابقہ حکومت کے دور میں تقرری ہونا تھا، تاکہ طالبان کے اپنے افراد کے لیے جگہ بنائی جا سکے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ باقی خالی اسامیاں گزشتہ ایک سال کے دوران ریٹائرمنٹ، اموات یا پہلے سے کی گئی برطرفیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھیں، جنہیں بھی طالبان سے وابستہ افراد سے پُر کیا جائے گا۔ اس پورے عمل کی نگرانی اور نظریاتی تربیت کی ذمہ داری وزیرِ اعلیٰ تعلیم مولوی ندا محمد ندیم کو سونپی گئی ہے، جو ملا ہیبت اللہ کے داماد ہیں اور سخت گیر نظریات کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مولوی ندا محمد ندیم کی سفارش پر 22 دسمبر 2025 کو طالبان قیادت نے مجموعی طور پر 90 ہزار سرکاری اسامیوں کے خاتمے کا اعلان کیا، جبکہ اس کے ساتھ ہی طالبان کے مخصوص نظریاتی مدارس کے لیے 100 ہزار نئی اسامیاں قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

مبصرین کے مطابق یہ اقدامات افغان ریاستی ڈھانچے کو مکمل طور پر طالبان کی نظریاتی گرفت میں دینے کی ایک منظم کوشش ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا فقدان بڑھے گا بلکہ افغانستان مزید تنہائی، انتہا پسندی اور عدم استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

دیکھیں: دوحہ بحری دفاعی نمائش کی افتتاحی تقریب میں افغان چیف آف اسٹاف کی شرکت

متعلقہ مضامین

دہشتگردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی مشکلات، کمزور ادارے اور سماجی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اس لیے اس کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی درکار ہے۔

March 21, 2026

انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو اندرونی خلفشار سے دوچار کر دینا کتنا بڑا جرم ہو گا۔ ان کی محبت عقیدت کا گھنٹہ گھر ایک شخص ہے ۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے ان کی جانے بلا۔

March 21, 2026

آرمی چیف نے ایران کے حوالے سے گفتگو میں واضح کیا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور خطے میں جنگی کشیدگی کم کرنے کیلئے کردار ادا کر رہا ہے

March 20, 2026

بڑی تعداد میں فلسطینی مسجد میں داخل نہ ہو سکے اور انہیں باہر ہی نماز ادا کرنا پڑی۔ اس اقدام کو فلسطینی حلقوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے

March 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *