افغانستان میں طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ریاستی اداروں پر مکمل نظریاتی اور انتظامی کنٹرول کے لیے بڑے پیمانے پر تطہیری عمل کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت سابقہ حکومت کے دور میں بھرتی کیے گئے 1,136 سرکاری ملازمین کو برطرف جبکہ طالبان سے وابستہ 1,555 وفادار افراد کو مختلف سرکاری اداروں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جنوری 2022 میں ملا ہیبت اللہ نے ایک جامع پالیسی متعارف کروائی تھی، جس کے تحت ملک بھر کے تعلیمی اداروں، بشمول کابل یونیورسٹی، کا نصاب تبدیل کیا گیا۔ اس نئے نصاب کو طالبان کی سخت گیر، رجعت پسند اور مخصوص پشتون روایات سے ہم آہنگ کیا گیا، تاکہ ریاستی ڈھانچے پر مکمل نظریاتی گرفت قائم کی جا سکے۔ اس عمل کے دوران سائنسی، سماجی اور جدید علوم کو یا تو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا یا انتہائی محدود کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دری، پشتو اور سماجی علوم کی درسی کتب سے مجموعی طور پر 51 مضامین حذف کیے گئے ہیں۔ اسلامیات کے شعبے میں بھی صرف حنفی فقہ کے دیوبندی مکتب فکر، اور وہ بھی مخصوص تعبیرات کے تحت تعلیم کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ دیگر فقہی مکاتب فکر کے پیروکاروں کے لیے تعلیم کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ حنفی فقہ کے اندر بھی صرف وہی آرا قابل قبول سمجھی جا رہی ہیں جو ملا ہیبت اللہ اور ان کے قریبی حلقے سے مطابقت رکھتی ہوں۔
طالبان حکومت کا مقصد ایک ایسی نسل تیار کرنا بتایا جا رہا ہے جو مکمل طور پر ان کے نظریاتی اہداف سے ہم آہنگ ہو۔ اسی مقصد کے تحت طالبان سے وابستہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو رسمی تعلیمی اسناد سے استثنیٰ دیتے ہوئے براہِ راست جامعات میں داخلہ دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ داخلے صرف پشتون اور قندھاری طالبان عناصر تک محدود رکھے گئے۔
تین سال بعد، 17 جنوری 2026 کو ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس کے تحت ان 1,555 منتخب طالبان افراد کو، جو اس مخصوص نصاب کے تحت تعلیم مکمل کر چکے تھے، مختلف سرکاری وزارتوں اور محکموں میں تعینات کیا گیا۔ اسی روز 1,136 سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ان برطرفیوں کی وجہ کسی قسم کی بدعنوانی یا جرم نہیں تھی بلکہ صرف سابقہ حکومت کے دور میں تقرری ہونا تھا، تاکہ طالبان کے اپنے افراد کے لیے جگہ بنائی جا سکے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ باقی خالی اسامیاں گزشتہ ایک سال کے دوران ریٹائرمنٹ، اموات یا پہلے سے کی گئی برطرفیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھیں، جنہیں بھی طالبان سے وابستہ افراد سے پُر کیا جائے گا۔ اس پورے عمل کی نگرانی اور نظریاتی تربیت کی ذمہ داری وزیرِ اعلیٰ تعلیم مولوی ندا محمد ندیم کو سونپی گئی ہے، جو ملا ہیبت اللہ کے داماد ہیں اور سخت گیر نظریات کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مولوی ندا محمد ندیم کی سفارش پر 22 دسمبر 2025 کو طالبان قیادت نے مجموعی طور پر 90 ہزار سرکاری اسامیوں کے خاتمے کا اعلان کیا، جبکہ اس کے ساتھ ہی طالبان کے مخصوص نظریاتی مدارس کے لیے 100 ہزار نئی اسامیاں قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
مبصرین کے مطابق یہ اقدامات افغان ریاستی ڈھانچے کو مکمل طور پر طالبان کی نظریاتی گرفت میں دینے کی ایک منظم کوشش ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا فقدان بڑھے گا بلکہ افغانستان مزید تنہائی، انتہا پسندی اور عدم استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
دیکھیں: دوحہ بحری دفاعی نمائش کی افتتاحی تقریب میں افغان چیف آف اسٹاف کی شرکت