طالبان حکام نے ہرات میں خواتین کی خفیہ ٹیکوانڈو تربیت دینے کے الزام میں حراست میں لی گئی 22 سالہ خواتین کوچ کو رہا کر دیا ہے۔ طالبان سپریم کورٹ کے ترجمان کے مطابق خدیجہ نامی خاتون کو آج ہرات کی جیل سے رہائی مل گئی ہے۔ انہیں حکام کے بقول ‘امر بالمعروف و نہی عن المنکر’ کے قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اپنی سزا کے 13 دن مکمل کر چکی تھیں۔
گرفتاری کی وجہ
ذرائع کے مطابق خدیجہ احمدزادہ نامی یہ کوچ ہرات میں رہائش پذیر تھیں اور خفیہ طور پر لڑکیوں کو ٹیکوانڈو کی تربیت دے رہی تھیں۔ طالبان کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے حکام نے ماضی میں بھی ایسی سرگرمیوں پر کارروائی کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ وزارت کے ضوابط کی پاسداری نہ کرنے پر حراست میں لی گئی تھیں۔ طالبان دور میں خواتین کے کھیلوں، خاص طور پر ان کھیلوں پر پابندی ہے جن میں مرد کوچ شامل ہوں یا جنہیں اسلامی اقدار کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔
𝗧𝗮𝗹𝗶𝗯𝗮𝗻 𝗥𝗲𝗹𝗲𝗮𝘀𝗲 𝗪𝗼𝗺𝗲𝗻’𝘀 𝗧𝗮𝗲𝗸𝘄𝗼𝗻𝗱𝗼 𝗖𝗼𝗮𝗰𝗵 𝗗𝗲𝘁𝗮𝗶𝗻𝗲𝗱 𝗶𝗻 𝗛𝗲𝗿𝗮𝘁
— Afghan Analyst (@AfghanAnalyst2) January 22, 2026
The Taliban Supreme Court’s spokesperson confirmed that a girl identified as Khadija was released from prison today. She had been arrested in Herat by the Ministry for the… https://t.co/U3YtYUhs0f pic.twitter.com/8nFQDLbyq1
ردعمل اور صورتحال
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد خدیجہ احمدزادہ کے گھر والے ان کی صحت مندانہ واپسی پر خوش ہیں۔ تاہم، طالبان حکام نے اس بارے میں کوئی مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں کہ آیا کوچ پر کوئی مقدمہ چلایا گیا یا انہیں کسی جرمانے یا شرط پر رہا کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب طالبان حکومت خواتین کی تعلیم، روزگار اور کھیلوں تک رسائی پر عائد پابندیوں پر بین الاقوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات مقامی ثقافت اور ان کے تشریح کردہ اسلامی اصولوں کے مطابق ہیں۔