"> طالبان کا پاکستانی فضائی کارروائی سے خوف

طالبان کا پاکستانی کارروائی سے خوف: اسلحہ اور ٹی ٹی پی قیادت خفیہ مقامات پر منتقل

پاکستانی فضائی حملوں کے خوف سے طالبان نے کابل سے اسلحہ اور ٹی ٹی پی رہنماؤں کو گنجان آباد علاقوں میں منتقل کر دیا۔
طالبان کا پاکستانی فضائی کارروائی سے خوف

طالبان نے ٹی ٹی پی کی حمایت جاری رکھتے ہوئے پاکستانی فضائی کارروائیوں سے بچنے کے لیے ہتھیار شہری علاقوں میں منتقل کر دیے اور پراپیگنڈا مہم تیار کر لی۔

October 30, 2026

طالبان انتظامیہ نے خطے میں امن کے قیام کے بجائے دہشت گرد پروکسیز کی سرپرستی کو ترجیح دینے کا پالیسی فیصلہ برقرار رکھا ہے اور پاکستان کی جانب سے کسی بھی متوقع جوابی کارروائی سے نپٹنے کے لیے دفاعی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

پاکستانی فضائی صلاحیتوں کے خوف سے طالبان حکومت کابل سے جہازوں کے غیر استعمال شدہ اسپیئر پارٹس ہرات اور مزار شریف منتقل کر رہی ہے۔ جبکہ فعال اسپیئر پارٹس کو موجودہ مقامات پر ہی پھیلا کر چھپانے کے لیے 100 سے زائد 20 فٹ کے کنٹینرز حاصل کیے گئے ہیں۔

حکمت عملی کے تحت طالبان انتظامیہ نے اپنے بارود کے ذخائر اور ڈرون سہولیات کو گنجان آباد شہری علاقوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ سویلین آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سرفہرست رہنماؤں نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر کو ممکنہ پاکستانی فضائی حملوں سے بچانے کے لیے کابل کی بڑی رہائشی عمارتوں اور اپارٹمنٹس میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ممکنہ حملوں کی صورت میں طالبان انتظامیہ نے ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا منصوبہ بھی تیار کر رکھا ہے۔ اس مقصد کے لیے ‘شہری علاقوں اور تجارتی منڈیوں’ پر حملوں کے پیشگی بیانات اور ماضی کے حوادث کی تصاویر جمع کر لی گئی ہیں۔

اگر طالبان حکومت اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردوں کی سرپرستی کی پالیسی ترک کر دیتی تو ان اقدامات کی ضرورت نہ پڑتی، مگر روایتی طرزِ عمل تبدیل ہوتا نظر نہیں آتا۔

متعلقہ مضامین

کراچی کے کامران چورنگی کے قریب فرنیچر مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا، آتشزدگی سے 35 دکانیں اور 10 سے 12 جھگیاں جل گئیں۔

October 30, 2026

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو خطے میں آبی سیکیورٹی اور انسانی بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

October 30, 2026

یمنی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں کے خلاف 24 گھنٹوں میں 324 جنگجو ہلاک اور 108 فوجی گاڑیاں تباہ کردی گئیں۔ کارروائیاں تعز، مارب اور دیگر محاذوں پر جاری ہیں۔

October 30, 2026

ضلع خاران میں فتنہ الہندوستان کی جانب سے چیک پوسٹ پر ڈرون حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، سکیورٹی فورسز نے پانچوں ڈرون تباہ کردیے۔

October 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *