طالبان حکومت کے ایک اعلیٰ سفارتکار نے نئے سال کی ابتداء میں ہی اقوامِ متحدہ پر شدید تنقید کی ہے۔ امارتِ اسلامیہ افغانستان کے دوحہ میں موجودہ ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ افغانستان کی حقیقی حکومت کو تسلیم نہ کر کے سیاسی تعصب کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ یہ ایک تاریخی اور قانونی حقیقت ہے کہ افغانستان پر مکمل کنٹرول امارتِ اسلامی کا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہمیں بین الاقوامی سطح پر نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
عوام کو نقصان، عالمی برادری کو فائدہ؟
طالبان سفیر نے اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ کیا اقوامِ متحدہ کا یہ رویہ عام افغان شہریوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف نہیں۔ “اقوام متحدہ کے جمود کی وجہ سے ہمارا ملک عالمی فورم پر اپنے مفادات کا تحفظ نہیں کر پا رہا، نہ ہی بین الاقوامی امداد تک ہماری مناسب رسائی ہے۔ اس کا خمیازہ غریب افغان عوام بھگت رہے ہیں، سہیل شاہین نے کہا کہ وہ ‘حقیقی نمائندے’ جو دنیا کی نظر میں ‘قابل قبول’ نہیں
ویدیو: همزمان با آغاز سال نو میلادی، سهیل شاهین، سرپرست سفارت امارتاسلامی در دوحه، بار دیگر از سپردهنشدن کرسی نمایندگیافغانستان در سازمانمللمتحد به امارتاسلامی انتقاد کرد.#طلوعنیوز pic.twitter.com/ntclTAS9Oj
— TOLOnews (@TOLOnews) January 1, 2026
دلچسپ بات یہ ہے کہ سہیل شاہین خود کو افغانستان کا “حقیقی نمائندہ” کہتے ہیں لیکن دنیا کے زیادہ تر ممالک ان کی حکومت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ امریکہ اور یورپ سمیت کئی ملکوں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت نے خواتین کے حقوق کا خیال نہیں رکھا۔ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی اور حکومت میں تمام طبقات کی شمولیت نہ ہونا بھی بین الاقوامی تحفظات کی بڑی وجوہات ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان معاشی مشکلات اور قدرتی آفات سے دوچار ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک طالبان حکومت اور عالمی برادری کے درمیان کسی قسم کا معاہدہ نہیں ہوتا، افغان طالبان دہشت گرد گروہ بالخصوص ٹی ٹی پی کے خلاد عملی اقدامات نہین کرتے اس وقت تک افغان عوام کے مسائل حل ہونے مشکل ہیں۔
دیکھیں: ایران میں قتل کی سازش، طالبان کی بیرونِ ملک خفیہ کارروائیاں بے نقاب