خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں واقع مشترکہ سییورٹی چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے کیے جانے والے خودکش حملے سے متعلق اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔
مطلع ذرائع کے مطابق اس حملے میں ملوث تینوں خودکش بمبار افغان شہری دکھائی دیتے ہیں۔ تفتیشی حکام کی جانب سے خودکش بمباروں کی شناخت کے عمل کے دوران حاصل ہونے والی بائیو میٹرک معلومات کی جانچ پڑتال کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فارنزک تجزیے کے دوران خودکش بمباروں کے فنگر پرنٹس اور چہرے کی تصاویر کو نادرا کے ڈیٹا بیس سے ملا کر دیکھا گیا، تاہم ڈیٹا بیس میں ان کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں پایا گیا۔
فارنزک رپورٹ میں بائیو میٹرک ڈیٹا کا کوئی میچ نہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جسے حملہ آوروں کے پاکستانی شہری نہ ہونے کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دستیاب شواہد کی بنیاد پر تفتیش کار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ٹانک حملے میں ملوث تینوں خودکش بمبار افغان شہری تھے۔
دیکھیے: مستونگ: انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 6 دہشت گرد ہلاک، متعدد گرفتار