سی پی آئی 2025 پاکستان کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ضرور ہے، مگر یہ پیغام خود اطمینانی کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا متقاضی ہے۔ اگر گزشتہ چار برسوں کی اصلاحات کو تسلسل، شفافیت اور غیرجانبداری کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ بہتری محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عوامی اعتماد اور ریاستی ساکھ میں بھی حقیقی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

February 10, 2026

اگرچہ قوم کا فیصلہ کل واضح ہو جائے گا، تاہم جو بھی حکومت اقتدار میں آئے گی اسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان میں سب سے نمایاں بدعنوانی ہے، کیونکہ حسینہ دور میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات سامنے آئے۔ اس کے علاوہ بیروزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے، جس نے نوجوانوں میں شدید بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔

February 10, 2026

صدر آصف علی زرداری نے ازبک صدر شوکت مرزیایوف کی جانب سے دورہ ازبکستان کی دعوت قبول کر لی ہے، جبکہ دونوں ممالک نے تجارت، آئی ٹی اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے

February 10, 2026

عالمی واٹر ٹریبیونل کے تحت پی سی اے نے تصدیق کی ہے کہ بھارت 9 فروری کی ڈیڈ لائن تک پاکستان کے ساتھ ڈیمز کا تکنیکی ڈیٹا شیئر کرنے میں ناکام رہا ہے، جو عالمی احکامات کی سنگین خلاف ورزی ہے

February 10, 2026

سینیئر صحافی حسن خان نے ترلائی واقعے کو پاکستان کے خلاف عالمی سازش کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور اسرائیل افغان سرزمین کے ذریعے ملک میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں

February 10, 2026

لاہور کی ضلع کچہری نے آن لائن جوئے کی پروموشن کے مقدمے میں یوٹیوبر ڈکی بھائی اور ان کی اہلیہ عروب جتوئی پر فرد جرم عائد کر دی؛ ملزمان کا صحتِ جرم سے انکار

February 10, 2026

بدعنوانی کے خلاف پیش رفت؛ اعداد و شمار، اصلاحات اور اصل امتحان

سی پی آئی 2025 پاکستان کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ضرور ہے، مگر یہ پیغام خود اطمینانی کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا متقاضی ہے۔ اگر گزشتہ چار برسوں کی اصلاحات کو تسلسل، شفافیت اور غیرجانبداری کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ بہتری محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عوامی اعتماد اور ریاستی ساکھ میں بھی حقیقی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
بدعنوانی کے خلاف پیش رفت؛ اعداد و شمار، اصلاحات اور اصل امتحان

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بھی عالمی سطح پر بدعنوانی کے تاثر کو ختم کرنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات پر زور دیا ہے، اور اس حوالے سے پاکستان کی پیش رفت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

February 10, 2026

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2025 پاکستان کے لیے محتاط امید کی ایک جھلک لے کر آیا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایک درجہ بہتری کے ساتھ 136ویں پوزیشن حاصل کی ہے جبکہ مجموعی اسکور 28 تک پہنچ گیا ہے۔ یہ پیش رفت بلاشبہ اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں بدعنوانی کے تاثر میں کمی کی سمت میں کچھ سنجیدہ اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم یہ کامیابی کسی حتمی منزل کے بجائے ایک ابتدائی سنگِ میل قرار دی جانی چاہیے۔

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان میں نہ صرف پبلک سیکٹر اور انتظامی بدعنوانی بلکہ قانون ساز اداروں اور عدلیہ سے متعلق بدعنوانی کے اعشاریوں میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ خاص طور پر انتظامی اور عدالتی بدعنوانی کے شعبوں میں پانچ پوائنٹس تک کی بہتری ایک مثبت اشارہ ہے، جو گڈ گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران بدعنوانی کے تاثر میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی، اور گزشتہ چار برسوں میں پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں مجموعی طور پر چار درجے بہتری آئی ہے۔

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ سی پی آئی 2025 میں اس سال 182 ممالک کا جائزہ لیا گیا، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 180 تھی۔ یعنی زیادہ ممالک کی شمولیت کے باوجود پاکستان کا اسکور بہتر ہونا اس پیش رفت کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں پاکستان نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور مربوط اقدامات کیے، جن میں انتظامی اصلاحات، شفافیت کے طریقہ کار اور احتسابی نظام کو بہتر بنانے کی کوششیں شامل ہیں۔

اس تناظر میں دسمبر 2025 میں شائع ہونے والی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی سالانہ رپورٹ اور حالیہ IPSOS–FPCCI سروے بھی اہم ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق دو تہائی شہریوں کو سرکاری اداروں میں کبھی بدعنوانی یا بے ضابطگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جبکہ 67 فیصد پاکستانیوں نے بدعنوانی اور 76 فیصد نے اقربا پروری کا تجربہ نہ ہونے کی نشاندہی کی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ عوامی سطح پر ریاستی اداروں کے ساتھ تعامل میں بہتری کا احساس پیدا ہو رہا ہے، جو کسی بھی اصلاحاتی عمل کے لیے نہایت ضروری ہے۔

اسی طرح پاکستان ریفارمز رپورٹ میں گزشتہ سال 135 سرکاری اداروں کی جانب سے 600 سے زائد کامیاب اصلاحات کی تفصیل سامنے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ اصلاحاتی ایجنڈا محض اعلانات تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی سطح پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بھی عالمی سطح پر بدعنوانی کے تاثر کو ختم کرنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات پر زور دیا ہے، اور اس حوالے سے پاکستان کی پیش رفت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم، اس مثبت تصویر کے ساتھ ایک حقیقت پسندانہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا بدعنوانی کے تاثر میں بہتری کو زمینی حقائق میں پائیدار تبدیلی میں بدلا جا سکے گا؟ اسکور 28 اور 136ویں پوزیشن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان ابھی بھی عالمی سطح پر بدعنوانی سے پاک ممالک کی صف میں شامل ہونے سے خاصا دور ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ ادارہ جاتی اصلاحات کو سیاسی استحکام، قانونی بالادستی اور شفاف احتساب کے مستقل نظام کے ساتھ جوڑا جائے۔

آخرکار، سی پی آئی 2025 پاکستان کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ضرور ہے، مگر یہ پیغام خود اطمینانی کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا متقاضی ہے۔ اگر گزشتہ چار برسوں کی اصلاحات کو تسلسل، شفافیت اور غیرجانبداری کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ بہتری محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عوامی اعتماد اور ریاستی ساکھ میں بھی حقیقی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

متعلقہ مضامین

اگرچہ قوم کا فیصلہ کل واضح ہو جائے گا، تاہم جو بھی حکومت اقتدار میں آئے گی اسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان میں سب سے نمایاں بدعنوانی ہے، کیونکہ حسینہ دور میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات سامنے آئے۔ اس کے علاوہ بیروزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے، جس نے نوجوانوں میں شدید بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔

February 10, 2026

صدر آصف علی زرداری نے ازبک صدر شوکت مرزیایوف کی جانب سے دورہ ازبکستان کی دعوت قبول کر لی ہے، جبکہ دونوں ممالک نے تجارت، آئی ٹی اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے

February 10, 2026

عالمی واٹر ٹریبیونل کے تحت پی سی اے نے تصدیق کی ہے کہ بھارت 9 فروری کی ڈیڈ لائن تک پاکستان کے ساتھ ڈیمز کا تکنیکی ڈیٹا شیئر کرنے میں ناکام رہا ہے، جو عالمی احکامات کی سنگین خلاف ورزی ہے

February 10, 2026

سینیئر صحافی حسن خان نے ترلائی واقعے کو پاکستان کے خلاف عالمی سازش کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور اسرائیل افغان سرزمین کے ذریعے ملک میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں

February 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *