واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز فوری طور پر نہ کھولی گئی تو امریکا ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک “نئی اور زیادہ معقول قیادت” کے تحت سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے، تاہم اگر معاہدہ جلد طے نہ پایا اور آبنائے ہرمز بند رہی تو امریکا سخت کارروائی پر مجبور ہوگا۔
“The United States of America is in serious discussions with A NEW, AND MORE REASONABLE, REGIME to end our Military Operations in Iran.” – President Donald J. Trump 🇺🇸 pic.twitter.com/0MWL2hSNmK
— The White House (@WhiteHouse) March 30, 2026
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی صورت میں ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں، خارگ جزیرے اور حتیٰ کہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ممکنہ کارروائی ان امریکی فوجیوں اور شہریوں کی ہلاکت کا جواب ہوگی جنہیں انہوں نے ایران کے “دہشتگردانہ اقدامات” سے جوڑا۔
ٹرمپ مشیروں پر زور ڈال رہے ہیں کہ ایران پردباؤ ڈالیں کہ جنگ ختم کرنےکی شرط کے طور پر یورینیم حوالے کرے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کا اہم ترین راستہ ہے اور اس پر کشیدگی عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور خطے کے امن کیلئے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جبکہ سفارتی کوششوں کے باوجود صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔
دیکھئیے:پاکستان کی جانب سے ایران کے لیے ادویات اور ضروری اشیاء کی پہلی کھیپ روانہ