کولمبو میں بھارت کے ہاتھوں عبرتناک شکست محض ایک کھیل کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے جدید مہارت سے دوری کا منہ بولتا ثبوت ہے

February 16, 2026

بنوں میں تھانہ میریان کے سامنے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت دو افراد شہید جبکہ 16 زخمی ہو گئے ہیں، پولیس کی مزید نفری جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی

February 16, 2026

کراچی میں رینجرز اور سی ٹی ڈی نے چکرا گوٹھ میں کاروائی کرتے ہوئے ‘فتنہ الہندوستان’ کے 3 مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد کر لیا ہے

February 16, 2026

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7 روپے 32 پیسے فی لیٹر تک اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے مقرر ہو گئی ہے

February 16, 2026

سی آئی ایس ایس اے جے کے اور ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مابین اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس تعاون کا مقصد علاقائی سلامتی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جوہری سیاست پر باخبر مکالمے کو فروغ دینا ہے

February 16, 2026

پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے بانی رکن کی درخواست؛ سڑکوں اور موٹرویز سے تمام رکاوٹیں فوری ہٹانے اور راستے کھولنے کے لیے عبوری حکم جاری کرنے کی استدعا کر دی

February 16, 2026

افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی: ملا یعقوب کے دعوے اور حقائق

یہ سب کچھ طالبان امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اس فرمان کے برعکس ہے جس میں افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی: ملا یعقوب کے دعوے اور حقائق

محض انکار اس حقیقت کو ختم نہیں کر سکتا کہ نور ولی محسود جیسے رہنما خوست میں طالبان سرپرستی کے ساتھ موجود اور متحرک ہیں۔

September 5, 2025

افغانستان کے وزیر دفاع ملا یعقوب نے بی بی سی کو حالیہ انٹرویو میں کہا کہ افغان سرزمین پر کوئی مسلح گروہ سرگرم نہیں اور پاکستان میں ہونے والے حملے دراصل پاکستان کی اپنی سکیورٹی ناکامیوں کا نتیجہ ہیں۔ تاہم، حقائق اور شواہد اس بیان کی نفی کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی و پابندیوں سے متعلق مانیٹرنگ ٹیم کی 35 ویں اور 36 ویں رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ سے منسلک عناصر اب بھی موجود ہیں اور مقامی نرمی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

سال 2025 میں چترال، شمالی وزیرستان اور اپر دیر میں افغانستان سے دراندازی کی کئی کوششیں ناکام بنائی گئیں۔ پاکستانی فوج نے اگست کے آغاز میں افغان سرزمین سے آنے والے درجنوں حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کی اطلاع دی تھی۔ یہ واقعات اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ مسلح گروہ سرحد پار پناہ گاہوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود بارہا مشرقی افغانستان، خصوصاً خوست، کنڑ، ننگرہار اور پکتیکا میں مقیم ہونے کی رپورٹس کا مرکز رہے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہیں افغان طالبان حکومت کی طرف سے ہر ماہ تقریباً 43 ہزار ڈالر کی مالی مدد ملتی ہے۔ اسی طرح حافظ گل بہادر کو بھی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں، جبکہ فراح صوبے میں پاکستان مخالف عناصر کی تربیت گاہیں قائم ہیں۔

یہ سب کچھ طالبان امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اس فرمان کے برعکس ہے جس میں افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

مزید برآں، بی ایل اے اور بی ایل ایف بھی صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ امریکی تحقیقات اور عالمی رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں اور سی پیک و چینی شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ فراح اور کابل میں ان کے ٹھکانے رپورٹ ہوئے ہیں جہاں نادر مری، فضل، لالو، زرین اور یاسمین بلوچ جیسے رہنما سرگرم ہیں۔

اگست 2025 میں پاکستان نے خوست اور ننگرہار میں مبینہ طور پر کارروائیاں کیں، جنہیں کابل نے تسلیم بھی کیا، اور ان کے اہداف ٹی ٹی پی کے مراکز تھے۔ اگر واقعی افغانستان میں کوئی پناہ گاہ موجود نہیں تو پاکستان اتنی بڑی سفارتی قیمت پر یہ کارروائیاں کیوں کرتا؟

محض دو دن قبل بنوں ایف سی لائن پر ہونے والے حملے میں سے دو حملہ آوروں کی شناخت افغان شہریوں کے طور پر ہو چکی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ ماہ 66 ٹی ٹی پی دہشت گرد ہلاک کیے جن میں سے 57 کا تعلق افغانستان سے تھا اور ان کی لاشیں بھی افغانستان کو واپس کی گئیں۔ اس سب سے ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان نہ صرف ٹی ٹی پی کیلئے محفوظ پناہ گاہ ہے بلکہ ٹی ٹی پی کے اکثر حملہ آوروں کا تعلق بھی افغانستان سے ہی ہوتا ہے۔

پاکستان کو داخلی سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں مگر اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ افغان سرزمین سے آنے والی پناہ گاہیں براہِ راست خطرہ ہیں۔ محض انکار اس حقیقت کو ختم نہیں کر سکتا کہ نور ولی محسود جیسے رہنما خوست میں طالبان سرپرستی کے ساتھ موجود اور متحرک ہیں۔

دیکھیں: افغانستان میں دو ٹی ٹی پی گروہوں کے درمیان لڑائی میں 10 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

کولمبو میں بھارت کے ہاتھوں عبرتناک شکست محض ایک کھیل کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے جدید مہارت سے دوری کا منہ بولتا ثبوت ہے

February 16, 2026

بنوں میں تھانہ میریان کے سامنے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت دو افراد شہید جبکہ 16 زخمی ہو گئے ہیں، پولیس کی مزید نفری جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی

February 16, 2026

کراچی میں رینجرز اور سی ٹی ڈی نے چکرا گوٹھ میں کاروائی کرتے ہوئے ‘فتنہ الہندوستان’ کے 3 مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد کر لیا ہے

February 16, 2026

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7 روپے 32 پیسے فی لیٹر تک اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے مقرر ہو گئی ہے

February 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *