...
گزشتہ چند سالوں میں این ایم ایف نے کئی حملے کیے، جن میں کاپیسا، ننگرہار، کوہستان اور شمالی علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔2024 میں این ایم ایف نے پاکستان کی سرحد پر ننگرہار کے لالپور ضلع میں ایک بڑا حملہ کیا، جس میں متعدد طالبان اور پاکستانی ٹی ٹی پی ارکان ہلاک ہوئے۔

January 14, 2026

وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پولیس لائن ٹانک کا دورہ کرتے ہوئے شہدائے پولیس کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی پولیس دہشت گردی کے خلاف بہادری سے لڑ رہی ہے

January 14, 2026

حکومتِ پاکستان نے اعلیٰ سطح پر سفارتی تبادلوں اور نئی تقرریوں کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت کابل، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور کیوبا سمیت اہم دارالحکومتوں میں نئے سفیروں اور ہائی کمشنر کی تعیناتی کی گئی ہے

January 14, 2026

برطانوی اور امریکی رپورٹس کے مطابق ابو زبیدہ کو دورانِ حراست 83 مرتبہ واٹر بورڈنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں نیند سے محروم رکھا گیا، شدید مار پیٹ کی گئی، اور 11 دن تک تابوت نما تنگ ڈبے میں بند رکھا گیا۔ سی آئی اے کی حراست کے دوران ان کی ایک آنکھ بھی ضائع ہو گئی۔

January 14, 2026

ایران میں دو ہفتے تک جاری مظاہرے ختم ہو گئے، ملک کے بیشتر حصوں میں امن و امان اور بین الاقوامی کالز بحال جبکہ انٹرنیٹ تاحال بند ہے

January 14, 2026

افغان طالبان کا جھوٹ بے نقاب، کابل میں ٹی ٹی پی قیادت کا اجلاس

نور ولی نے ٹی ٹی پی کی نئی قیادت اور تشکیلات کی منظوری لی ۔کابل کے وزیر اکبر خان میں ایک انتہائی محفوظ  سرکاری گیسٹ ہاؤس میںٹی ٹی پی کے رہنماؤں کا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب افغان طالبان افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی موجودگی سے انکار کر رہے ہیں۔

اجلاس میں جماعۃ الاحرار کے کسی دہشت گرد کو شریک نہیں کیا گیا ، جبکہ جاری کردہ ٹی ٹی پی کے سٹرکچر میں بھی جماعۃ الاحرار کے دہشت گردوں کو مکمل طور پر خٓرج کردیا گیا ہے ۔

January 4, 2026

افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی موجودگی سے انکار کا جھوٹ بے نقاب ہو گیا ۔ 2جنوری سے 3جنوری کے دوران ٹی ٹی پی کی  ایگزیکٹو کونسل کا ہنگامہ خیز اجلا س کابل کے علاقے وزیر اکبر خان میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت نور ولی نے کی ۔ اجلاس کے دوران 2026 میں ٹی ٹی پی کی عمومی تشکیلات اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کی نئی پالیسی  پر بحث کی گئی ۔

نور ولی نے ٹی ٹی پی کی نئی قیادت اور تشکیلات کی منظوری لی ۔کابل کے وزیر اکبر خان میں ایک انتہائی محفوظ  سرکاری گیسٹ ہاؤس میںٹی ٹی پی کے رہنماؤں کا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب افغان طالبان افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی موجودگی سے انکار کر رہے ہیں۔ ہمارے نے انکشاف کیا ہے کہ اجلاس انتہائی بے یقینی کے عالم میں ہوا ، جہاں ہر دہشت گرد لیڈر کی جامہ تلاشی لی گئی ، کسی بھی دہشت گرد کمانڈر کو فون ، وائر لیس یہاں تک کے الیکڑانک گھڑی تک ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی ، سکیورٹی اور کسی ٹی ٹی پی مخالف ایجنٹ کے خوف سے تمام لوگوں کی میٹنگ کے مقام سے دور ایک گیسٹ ہاوئس میں تلاشی لی گئی ، سب کچھ وہاں رکھوا کر انہیں سخت سکیورٹی میں پنجشیر جی ڈی آئی کے کابل میں  موجود گیسٹ ہائوس لایا گیا ، جہاں اجلاس ہو رہا تھا ۔

اہم بات یہ رہی کہ ٹی ٹی پی کی قیادت میں اس قدر خوف پایا گیا کہ ہر کوئی ہر دوسرے پر شک کر رہا تھا ، احتیاط کا یہ عالم دیکھا گیا کہ اجلاس ایک دن ایک گیسٹ ہائو س میں ہوا جو کابل میں جی ڈی آئی پنج شیر کے زیر استعمال تھا ،رات کو پوری قیادت کو الگ الگ نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا اور اگلے روز اجلا س ایک دوسرے گیسٹ ہائوس میں ہو ا۔اجلاس میں جماعۃ الاحرار کے کسی دہشت گرد کو شریک نہیں کیا گیا ، جبکہ جاری کردہ ٹی ٹی پی کے سٹرکچر میں بھی جماعۃ الاحرار کے دہشت گردوں کو مکمل طور پر خٓرج کردیا گیا ہے ۔

سورس کے مطابق انہیں دنوں یعنی2 اور 3جنوری کو جماعۃ الاحرار کا اجلاس صوبہ پکتیکا  کے علاقہ برمل میں دہشت گردوں کے مرکز میں ہوا ، جس میں جماعۃ الاحرار کے سربراہ عمر مکرم خراسانی سر کی قیمت یک کروڑ اور مکمل شاہ عرف سربکف مہمند سر کی قیمت 50لاکھ بھی شریک ہوئے ۔

دیکھیں: وینزویلا کے وزیر داخلہ کی عوام کو قیادت پر اعتماد اور جارح قوتوں سے تعاون نہ کرنے کی اپیل

متعلقہ مضامین

گزشتہ چند سالوں میں این ایم ایف نے کئی حملے کیے، جن میں کاپیسا، ننگرہار، کوہستان اور شمالی علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔2024 میں این ایم ایف نے پاکستان کی سرحد پر ننگرہار کے لالپور ضلع میں ایک بڑا حملہ کیا، جس میں متعدد طالبان اور پاکستانی ٹی ٹی پی ارکان ہلاک ہوئے۔

January 14, 2026

وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پولیس لائن ٹانک کا دورہ کرتے ہوئے شہدائے پولیس کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی پولیس دہشت گردی کے خلاف بہادری سے لڑ رہی ہے

January 14, 2026

حکومتِ پاکستان نے اعلیٰ سطح پر سفارتی تبادلوں اور نئی تقرریوں کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت کابل، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور کیوبا سمیت اہم دارالحکومتوں میں نئے سفیروں اور ہائی کمشنر کی تعیناتی کی گئی ہے

January 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.