ترکیہ میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آگئی ہے۔ رواں سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران 25 ہزار سے زائد افغان شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک پولیس اور امیگریشن حکام نے جنوری سے اگست 2026 کے دوران تقریباً 95 ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن کو حراست میں لیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان میں سب سے بڑی تعداد افغان شہریوں کی تھی۔ مجموعی طور پر 25 ہزار 314 افغان باشندے حراست میں لیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق افغان شہریوں کے بعد شام، ازبکستان، ترکمانستان، ایران، مراکش، عراق، مصر، سوڈان اور یمن کے شہری بھی حراست میں لیے گئے۔
ترک حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کے پاس درست رہائشی اجازت نامے یا ملک میں قیام سے متعلق قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔
دوسری جانب ترکیہ نے غیر قانونی ہجرت روکنے کے لیے سرحدی نگرانی مزید سخت کردی ہے۔ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔
غیر قانونی ہجرت صرف ترکیہ تک محدود مسئلہ نہیں۔ پاکستان، ایران اور خطے کے دیگر ممالک بھی غیر قانونی آمدورفت اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔
اسی وجہ سے مختلف ممالک سرحدی نگرانی، دستاویزات کی جانچ اور غیر قانونی ہجرت کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنا رہے ہیں۔
ترکیہ سے افغانستان واپسی
اقوام متحدہ کے مطابق 2026 کے پہلے 5 ماہ کے دوران ترکیہ سے 13 ہزار سے زائد افغان تارکین وطن کو ملک بدر کیا گیا۔
افغانستان میں طویل سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور سیکیورٹی مسائل کے باعث بڑی تعداد میں شہری بیرونِ ملک منتقل ہوئے ہیں۔
ترکیہ یورپ جانے کے خواہش مند تارکین وطن کے لیے اہم راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ترک حکام غیر قانونی ہجرت روکنے کے لیے سرحدی نگرانی اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دیکھیے: زیارت میں شہدا کی بے حرمتی، دہشتگردوں کا سفاک چہرہ بے نقاب