بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ معاہدہ محض دو ممالک کے باہمی تعاون تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی صف بندی اور طاقت کے توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں، یہ معاہدہ علاقائی سیاست میں کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے حالیہ برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی کو روایتی دائرے سے نکال کر معاشی مفادات اور اسٹریٹجک خودمختاری کی بنیاد پر استوار کیا ہے۔ بھارت کے ساتھ اس کا بڑھتا ہوا تعاون، خاص طور پر تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور دفاع کے شعبوں میں، اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ جامع اقتصادی شراکت داری کے بعد یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کو مزید قریب لا رہا ہے۔
بھارت کے لیے یہ معاہدہ نہایت اہم ہے کیونکہ خلیجی خطہ اس کی توانائی ضروریات، تجارت اور بیرونِ ملک افرادی قوت کے حوالے سے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بھارت اس تعاون کے ذریعے نہ صرف اپنی معیشت کو تقویت دینا چاہتا ہے بلکہ خطے میں اپنے اسٹریٹجک اثر و رسوخ کو بھی وسعت دے رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بھی حالیہ برسوں میں دفاعی، سفارتی اور معاشی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تینوں ممالک مشترکہ عسکری مشقوں، دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس تعاون اور سفارتی ہم آہنگی کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ ترکی کے ساتھ دفاعی صنعت میں اشتراک اور سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون بن چکی ہے۔
یہ سہ فریقی تعاون مسلم دنیا میں ایک متبادل سفارتی بیانیے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد علاقائی خودمختاری، باہمی تعاون اور عالمی طاقتوں پر انحصار میں کمی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ تعلقات نہ صرف معاشی مدد اور سرمایہ کاری کا ذریعہ ہیں بلکہ دفاعی اور سفارتی توازن قائم رکھنے میں بھی معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
تاہم خلیجی سیاست یکساں نہیں۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ برسوں میں بعض معاملات پر اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ یمن کی جنگ، تیل کی پیداوار سے متعلق اوپیک پلس کے فیصلے، علاقائی قیادت کا سوال اور بعض خارجہ پالیسی ترجیحات نے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کو نمایاں کیا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک اس اختلاف کو مکمل تصادم میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہتے، مگر یہ تناؤ خلیجی سیاست کی پیچیدگی کو ضرور ظاہر کرتا ہے۔
یہی اختلافات متحدہ عرب امارات کو ایک زیادہ خودمختار اور کثیرالجہتی خارجہ پالیسی اپنانے کی طرف لے گئے ہیں، جس کے تحت وہ بھارت، اسرائیل اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ معاہدہ اسی بدلتی ہوئی سوچ کا مظہر ہے۔
ان تمام تبدیلیوں کے تناظر میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذباتی ردِعمل کے بجائے حقیقت پسندانہ اور فعال سفارت کاری اختیار کرے۔ پاکستان کو ایک طرف سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط رکھنا ہوگا، تو دوسری طرف متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی تاریخی اور معاشی روابط کو نئے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانا ہوگا۔
پاکستان کے لیے یہ لمحہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ معاشی سفارت کاری، دفاعی تعاون اور علاقائی توازن کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ بنائے۔ بدلتے ہوئے اتحاد اس بات کی یاددہانی ہیں کہ عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، بلکہ مستقل مفادات ہوتے ہیں۔
بھارت-یو اے ای معاہدہ، پاکستان–سعودی عرب–ترکی تعاون اور یو اے ای–سعودی اختلافات، یہ سب مل کر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ ایک نئے سفارتی دور میں داخل ہو چکا ہے۔ اس دور میں وہی ممالک کامیاب ہوں گے جو بدلتے حالات کو سمجھتے ہوئے دانشمندانہ فیصلے کریں گے۔ پاکستان کے لیے چیلنج بھی یہی ہے اور موقع بھی کہ وہ توازن، تدبر اور اسٹریٹجک وژن کے ساتھ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے۔
دیکھیں: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکہ، 9 افراد ہلاک