ضلعی انتظامیہ پہلے ہی سیکیورٹی خدشات کے باعث جلسے کی اجازت مسترد کر چکی تھی، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے مطابق شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور موجودہ حالات میں جلسہ منعقد کرنا خطرناک ہو سکتا تھا۔

April 8, 2026

حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین کے شہر ارومچی میں اہم مذاکرات مکمل ہوئے تھے، جن میں سرحدی سکیورٹی، دہشت گردی اور کشیدگی کم کرنے کے امور پر بات چیت کی گئی تھی۔

April 8, 2026

اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ نے انسانی ہمدردی کی آڑ میں دہشت گردانہ پناہ گاہوں اور ‘انسانی ڈھال’ کے استعمال کو نظر انداز کر کے طالبان کے انتہا پسند بیانیے کو فروغ دیا ہے، جس سے خطے کے سکیورٹی حقائق مسخ ہو گئے ہیں

April 8, 2026

پاکستان کی عالمی کامیابیاں سیاسی و عسکری قیادت کی ہم آہنگی کا نتیجہ ہیں؛ اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو ملکی مفاد میں اپنا رویہ بدلنا ہوگا

April 8, 2026

سوئس اخبار ‘دی بلک’ کا دعویٰ: سوئٹزرلینڈ کا بطور ثالث کردار ختم، پاکستان نے امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کروا کر دنیا کو حیران کر دیا۔

April 8, 2026

کابل کے زیرِ اثر رپورٹنگ: اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ زمینی حقائق مسخ کرنے کی دانستہ کوشش قرار

اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ نے انسانی ہمدردی کی آڑ میں دہشت گردانہ پناہ گاہوں اور ‘انسانی ڈھال’ کے استعمال کو نظر انداز کر کے طالبان کے انتہا پسند بیانیے کو فروغ دیا ہے، جس سے خطے کے سکیورٹی حقائق مسخ ہو گئے ہیں
اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ نے انسانی ہمدردی کی آڑ میں دہشت گردانہ پناہ گاہوں اور 'انسانی ڈھال' کے استعمال کو نظر انداز کر کے طالبان کے انتہا پسند بیانیے کو فروغ دیا ہے، جس سے خطے کے سکیورٹی حقائق مسخ ہو گئے ہیں

او سی ایچ اے کی رپورٹ پر ماہرین کا شدید ردِعمل؛ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس اور شہری آبادی کے استحصال کو چھپانے کی کوششوں کو بے نقاب کر دیا گیا۔ کیا عالمی ادارے کابل کے دباؤ میں ہیں؟

April 8, 2026

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ‘او سی ایچ اے’ کی حالیہ رپورٹ نے انسانی ہمدردی کے لبادے میں ایک ایسا بیانیہ پیش کیا ہے جو نہ صرف ادھورا ہے بلکہ زمینی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ ماہرینِ خارجہ امور نے اس رپورٹ کو ‘کابل کے چشمے’ سے تیار کردہ دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹنگ افغانستان میں موجود دہشت گردانہ ڈھانچے کو نظر انداز کر کے طالبان انتظامیہ کو ایک ‘مظلوم فریق’ ثابت کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ آزادانہ تصدیق کے فقدان کے باعث یہ رپورٹ محض کابل حکومت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کا مجموعہ بن کر رہ گئی ہے۔

‘انسانی ڈھال’ کا تذکرہ کیوں نہیں؟

رپورٹ میں تعلیمی اداروں اور طبی مراکز کو پہنچنے والے نقصانات کا رونا تو رویا گیا ہے، لیکن اس کلیدی حقیقت پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی ہے کہ ان شہری مقامات کو افغان طالبان اور ٹی ٹی پی نے اپنے اسلحہ خانوں، تربیت گاہوں اور کمانڈ سینٹرز میں تبدیل کر رکھا ہے۔ شہری آبادی کو ‘انسانی ڈھال’ کے طور پر استعمال کرنا دہشت گردوں کی وہ سوچی سمجھی جنگی چال ہے جس کا مقصد فوجی کارروائیوں کو روکنا اور جانی نقصان کی صورت میں اسے عالمی سطح پر سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے اپنے نظام میں تضادات

حیرت انگیز طور پر یہ رپورٹ خود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان مانیٹرنگ ٹیموں کے جائزوں کی نفی کر رہی ہے جو افغانستان کو القاعدہ اور داعش سمیت 20 سے زائد دہشت گرد گروہوں کا مرکز قرار دے چکی ہیں۔ ایک طرف سلامتی کونسل افغانستان میں 23 ہزار سے زائد جنگجوؤں کی موجودگی کا انتباہ دیتی ہے، تو دوسری طرف او سی ایچ اے کی انسانی ہمدردی کی رپورٹ ان حقائق کو یکسر چھپا دیتی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ طرزِ عمل طالبان کے ساتھ ایک ‘خفیہ ملی بھگت’ کی عکاسی کرتا ہے، تاکہ افغانستان میں کام کرنے کی اجازت برقرار رکھی جا سکے۔

امداد کا استحصال اور ذمہ داری کا تعین

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کو فراہم کی جانے والی امدادی رقوم کا بڑا حصہ طالبان کے سخت کنٹرول میں ہے، جو اسے اپنے جبر کے نظام اور دہشت گردی کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ عالمی برادری افغانستان کے لیے امداد کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائیوں سے مشروط کرے۔ سرحدوں پر پیدا ہونے والی حالیہ صورتحال کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ طالبان کی اس پالیسی کا شاخسانہ ہے جس کے تحت دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

آخر میں یہ حقیقت واضح ہے کہ انسانی ہمدردی کے نام پر دہشت گردوں کی پردہ پوشی نہ صرف عالمی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس کا سب سے بڑا خمیازہ وہ 4 کروڑ افغان عوام بھگت رہے ہیں جنہیں انتہا پسند بیانیے کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

ضلعی انتظامیہ پہلے ہی سیکیورٹی خدشات کے باعث جلسے کی اجازت مسترد کر چکی تھی، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے مطابق شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور موجودہ حالات میں جلسہ منعقد کرنا خطرناک ہو سکتا تھا۔

April 8, 2026

حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان چین کے شہر ارومچی میں اہم مذاکرات مکمل ہوئے تھے، جن میں سرحدی سکیورٹی، دہشت گردی اور کشیدگی کم کرنے کے امور پر بات چیت کی گئی تھی۔

April 8, 2026

پاکستان کی عالمی کامیابیاں سیاسی و عسکری قیادت کی ہم آہنگی کا نتیجہ ہیں؛ اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو ملکی مفاد میں اپنا رویہ بدلنا ہوگا

April 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *