اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ‘او سی ایچ اے’ کی حالیہ رپورٹ نے انسانی ہمدردی کے لبادے میں ایک ایسا بیانیہ پیش کیا ہے جو نہ صرف ادھورا ہے بلکہ زمینی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ ماہرینِ خارجہ امور نے اس رپورٹ کو ‘کابل کے چشمے’ سے تیار کردہ دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹنگ افغانستان میں موجود دہشت گردانہ ڈھانچے کو نظر انداز کر کے طالبان انتظامیہ کو ایک ‘مظلوم فریق’ ثابت کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ آزادانہ تصدیق کے فقدان کے باعث یہ رپورٹ محض کابل حکومت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کا مجموعہ بن کر رہ گئی ہے۔
‘انسانی ڈھال’ کا تذکرہ کیوں نہیں؟
رپورٹ میں تعلیمی اداروں اور طبی مراکز کو پہنچنے والے نقصانات کا رونا تو رویا گیا ہے، لیکن اس کلیدی حقیقت پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی ہے کہ ان شہری مقامات کو افغان طالبان اور ٹی ٹی پی نے اپنے اسلحہ خانوں، تربیت گاہوں اور کمانڈ سینٹرز میں تبدیل کر رکھا ہے۔ شہری آبادی کو ‘انسانی ڈھال’ کے طور پر استعمال کرنا دہشت گردوں کی وہ سوچی سمجھی جنگی چال ہے جس کا مقصد فوجی کارروائیوں کو روکنا اور جانی نقصان کی صورت میں اسے عالمی سطح پر سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کے اپنے نظام میں تضادات
حیرت انگیز طور پر یہ رپورٹ خود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان مانیٹرنگ ٹیموں کے جائزوں کی نفی کر رہی ہے جو افغانستان کو القاعدہ اور داعش سمیت 20 سے زائد دہشت گرد گروہوں کا مرکز قرار دے چکی ہیں۔ ایک طرف سلامتی کونسل افغانستان میں 23 ہزار سے زائد جنگجوؤں کی موجودگی کا انتباہ دیتی ہے، تو دوسری طرف او سی ایچ اے کی انسانی ہمدردی کی رپورٹ ان حقائق کو یکسر چھپا دیتی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ طرزِ عمل طالبان کے ساتھ ایک ‘خفیہ ملی بھگت’ کی عکاسی کرتا ہے، تاکہ افغانستان میں کام کرنے کی اجازت برقرار رکھی جا سکے۔
امداد کا استحصال اور ذمہ داری کا تعین
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کو فراہم کی جانے والی امدادی رقوم کا بڑا حصہ طالبان کے سخت کنٹرول میں ہے، جو اسے اپنے جبر کے نظام اور دہشت گردی کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ عالمی برادری افغانستان کے لیے امداد کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائیوں سے مشروط کرے۔ سرحدوں پر پیدا ہونے والی حالیہ صورتحال کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ طالبان کی اس پالیسی کا شاخسانہ ہے جس کے تحت دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
آخر میں یہ حقیقت واضح ہے کہ انسانی ہمدردی کے نام پر دہشت گردوں کی پردہ پوشی نہ صرف عالمی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس کا سب سے بڑا خمیازہ وہ 4 کروڑ افغان عوام بھگت رہے ہیں جنہیں انتہا پسند بیانیے کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔