القاعدہ اور فتنۃ الخوارج کو افغان رجیم کی پشت پناہی حاصل ہے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ سمیت دیگر عسکریت پسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور تربیتی مراکز میسر ہیں، جو خطے کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔
افغان سرزمین پر القاعدہ، فتنہ الخوارج سمیت دہشتگرد تنظیمیں سرگرم

اقوام متحدہ کی کمیٹی کے رکن ایڈمنڈ فٹن براؤن کا انکشاف: افغانستان میں القاعدہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کو طالبان کی سرپرستی اور محفوظ ٹھکانے حاصل ہیں۔

August 3, 2026

اقوام متحدہ کی دہشت گردی سے متعلق پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی نے افغان طالبان حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ سمیت متعدد شدت پسند تنظیموں کو اب بھی محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔

کمیٹی کے رکن ایڈمنڈ فٹن براؤن نے افغان میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ القاعدہ کو افغانستان میں جدید تربیتی مراکز، نئی بھرتیوں کے مواقع اور محفوظ ٹھکانے فراہم کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث یہ تنظیم اپنے نیٹ ورک کو فعال رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ طالبان حکومت کی جانب سے بعض شدت پسند گروہوں کو افغان سرزمین سے سرحد پار حملوں کی اجازت دی جا رہی ہے، جو خطے کے امن و استحکام اور خصوصاً پڑوسی ممالک کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے۔

ایڈمنڈ فٹن براؤن کے مطابق افغانستان میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ترکستان اسلامک موومنٹ اور جماعت انصار اللہ جیسے خطرناک گروہ اپنے اڈوں کے ساتھ موجود ہیں اور انہیں طالبان حکومت کی خاموش حمایت حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے نمائندے نے واضح کیا کہ طالبان حکومت ان گروہوں کو اپنے سیاسی و علاقائی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے، اسی لیے عالمی برادری طالبان کو دہشت گردی کے خلاف قابلِ اعتماد شراکت دار تصور نہیں کر سکتی۔

دوسری جانب افغان طالبان انتظامیہ نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم پر قائم ہیں۔ تاہم، عالمی اداروں اور انٹیلی جنس رپورٹس نے طالبان کے ان دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

کالعدم بی ایل اے نے بشیر زیب بلوچ کو کمانڈر ان چیف کے عہدے سے الگ کر کے تمام اختیارات سینئر کمانڈ کونسل کے سپرد کر دیے ہیں۔

November 4, 2026

بلوچستان اور لکی مروت میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران خودکش بمبار سمیت 19 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے، پاک فوج کا ایک سپاہی شہید ہوا۔

November 4, 2026

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *