سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا موجودہ ڈھانچہ موجودہ جغرافیائی و سیاسی حقیقتوں کی عکاسی نہیں کرتا، اس لیے اس میں جامع اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 1965 کے بعد سے سلامتی کونسل کی ساخت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی، جبکہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی تعداد بڑھ کر 193 ہو چکی ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے کونسل کے ارکان کی تعداد میں اضافے کی مکمل حمایت کی۔
اعزاز احمد چوہدری کے مطابق بنیادی اختلاف ان ممالک کے درمیان ہے جو منتخب نشستوں میں اضافہ چاہتے ہیں اور ان کے درمیان جو نئے مستقل ارکان شامل کرنے کے حامی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان یونائیٹنگ فار کنسینساس ماڈل کی حمایت کرتا ہے۔ اس ماڈل کے تحت نئے مستقل ارکان کے بجائے مزید گردش پذیر اور منتخب غیر مستقل نشستیں شامل کی جانی چاہئیں۔
ان کے مطابق مستقل رکنیت کا تصور جمہوری نمائندگی کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس کے برعکس منتخب نشستوں میں اضافہ ان ممالک کو بہتر نمائندگی اور آواز فراہم کر سکتا ہے جنہیں اس وقت کونسل میں کم نمائندگی حاصل ہے۔