اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں آبنائے ہرمز کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور عالمی تجارت پر اس کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران بحرین کی جانب سے ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی بحفاظت نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے ممکنہ فوجی اقدامات کی تجویز دی گئی ہے۔ سلامتی کونسل کے اراکین نے سمندری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے طاقت کے استعمال کی اجازت پر بھی بحث کی، تاکہ عالمی سپلائی چین کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔
سفارتی کوششیں
خلیج تعاون کونسل کے نمائندوں نے اجلاس میں اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کو ایرانی جارحیت کا سامنا ہے اور وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق رکھتے ہیں۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ سلامتی کونسل اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اہم سمندری گزرگاہوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ دوسری جانب، برطانیہ کی میزبانی میں ایک اہم ورچوئل اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں 35 ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی اور عملی اقدامات پر مشاورت کریں گے۔
سیکریٹری جنرل کی وارننگ
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے صورتحال کو نہایت افسوس ناک قرار دیتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کریں تاکہ انسانی مصائب اور تباہ کن معاشی اثرات کو روکا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو یہ بحران ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ گوتریس نے ایران سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ہمسایہ ممالک پر حملے بند کرے۔ عرب میڈیا کے مطابق اقوامِ متحدہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے جلد ہی اپنا خصوصی نمائندہ بھی روانہ کر رہا ہے۔