افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے معاونتی مشن (یوناما) کی غیر جانبداری پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ مبصرین اور سکیورٹی حلقوں نے یوناما پر روایتی یکطرفہ رویہ اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوناما افغان سرزمین پر قائم دہشت گردوں کے مضبوط نیٹ ورکس اور محفوظ پناہ گاہوں کے معاملے کو مسلسل پسِ پشت ڈال رہا ہے، جب کہ دوسری طرف طالبان حکومت کی جانب سے سویلین ہلاکتوں کے دعوؤں کو بغیر کسی آزادانہ تصدیق کے اپنی رپورٹس کا حصہ بنا رہا ہے۔
حالیہ انسدادِ دہشت گردی کاروائیوں کے بعد یوناما کی تشہیر کا محور صرف مبینہ شہری نقصانات رہے، جب کہ زمینی حقائق کے مطابق ان کاروائیوں میں نقصان فقط دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو ہوا ہے۔ اس کے باوجود سرحد پار حملوں میں ملوث کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں، عسکریت پسند کمانڈروں اور ان کے عسکری ڈھانچے کے کردار پر یوناما کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔
ٹی ٹی پی کمانڈرز کی ہلاکتیں
رپورٹ کے مطابق 9 اور 10 جون کی درمیانی شب افغان حدود کے اندر عسکریت پسندوں کے 4 مختلف اسٹریٹجک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کنڑ کے علاقے شلتان و چوغام سمیت خوست کا علاقہ سپیرہ اور پکتیکا کا برمل شامل ہیں۔ ان کاروائیوں میں ہلاک و زخمی ہونے والے کمانڈرز کی تفصیلات کے مطابق، کنڑ کے علاقے شلتان میں ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر ابوبکر کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا، جو اپنے خاندان کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا تھا اور کاروائی کے دوران خود بھی ہلاک ہو گیا۔
چوغام میں ایک اور سرکردہ کمانڈر ملا عبداللہ کے ٹھکانے پر آپریشن کیا گیا، جس میں کمانڈر مارا گیا جب کہ اس کی اہلیہ اور دو بچے زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ، خوست کے علاقے سپیرہ میں دو رہائشی مکانات پر مشتمل عسکری کمپاؤنڈ پر کاروائی میں 18 افراد کی ہلاکت اور 10 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جب کہ پکتیکا کے سرحدی علاقے برمل میں عسکریت پسند کمانڈر سنگر کے ٹھکانے پر ہونے والی کارروائی میں پانچ افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔
عالمی رپورٹنگ اور حقائق
خطے کی سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین نے یوناما کے طریقہ کار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کئی چبھتے ہوئے سوالات اٹھائے ہیں۔ تنقیدی حلقوں کا موقف ہے کہ عالمی ادارے کی رپورٹس میں ان بنیادی حقائق کو یکسر اوجھل کر دیا جاتا ہے کہ نشانہ بننے والے مقامات پر ٹی ٹی پی کے کمانڈرز، ان کے سہولت کار اور عسکری نیٹ ورکس باقاعدہ سرگرم تھے یا نہیں۔
اس تناظر میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا یوناما نے کسی بھی فرد کو سویلین قرار دینے سے قبل اس کے پس منظر کی مکمل جانچ کی ہے، اور خوست، کنڑ اور پکتیکا جیسے حساس سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے قائم مستقل ڈھانچوں اور مسلسل تربیتی سرگرمیوں پر عالمی مشن نے مجرمانہ خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟
مزید برآں کیا نشانہ بننے والے یہ کمپاؤنڈز واقعی عام شہریوں کی رہائش گاہیں تھیں یا پھر یہ سرحد پار حملے کرنے والے دہشت گردوں کے لاجسٹک مراکز کے طور پر استعمال ہو رہے تھے، اور عسکریت پسندوں کی جانب سے خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال بنانے کے حربے کو بین الاقوامی اداروں کی رپورٹنگ میں کیوں چھپایا جاتا ہے؟
معلومات کا بحران
تجزیہ کاروں کے مطابق افغان طالبان کا یہ دیرینہ اور روایتی مروجہ طریقہ رہا ہے کہ وہ کسی بھی عسکری کاروائی کے فوراً بعد سویلین نقصانات کا واویلا شروع کر دیتے ہیں تاکہ عالمی سطح پر مظلومیت کا کارڈ کھیلا جا سکے، تاہم وہ اس حقیقت کا کوئی جواب نہیں دیتے کہ ان کی ناک کے نیچے افغان سرزمین پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ آماجگاہ کیوں بنی ہوئی ہے اور وہ ان کی سرگرمیاں روکنے میں کیوں ناکام ہیں۔
مجموعی طور پر یہ معاملہ خطے میں جاری سکیورٹی کشیدگی، متضاد بیانات اور پراپیگنڈا جنگ کے باعث انتہائی پیچیدہ شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دشوار گزار علاقوں اور محدود رسائی کے باعث زمینی حقائق کی منصفانہ تصدیق میں حائل رکاوٹیں بھی مختلف دعوؤں کے درمیان خلیج کو بڑھانے کا سبب بن رہی ہیں، جس کا فائدہ اٹھا کر اصل حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے۔
دیکھیے: لاپتا افراد کی آڑ میں دہشت گردی کا کھیل: بی ایل اے کا مکروہ چہرہ بے نقاب