اقوام متحدہ کی 38ویں مانیٹرنگ ٹیم (یو این ایم ٹی) کی تازہ ترین رپورٹ میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے بین الاقوامی طور پر نامزد دہشت گرد تنظیموں سے راست تعلقات اور مشترکہ تعاون کو تشت از بام کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے پیراگراف 93 کے مطابق، بی ایل اے اور آئی ایس کے پی لاجسٹک سہولت کاری کے لیے ایک ہی مشترکہ نیٹ ورک استعمال کر رہے ہیں۔ ان حقائق نے بی ایل اے کو محض ایک مقامی یا الگ تھلگ شورش پسند گروپ قرار دینے کے بیانیے کو مکمل طور پر باطل کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے پیراگراف 100 میں ایک اور تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے تربیت کاروں نے بی ایل اے کے دہشت گردوں کو ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے ساتھ مشترکہ سیشنز میں تربیت فراہم کی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تمام تنظیمیں پاکستان کے خلاف ایک ہی تربیتی ماحول کا حصہ ہیں۔
رپورٹ کے پیراگراف 97 میں بتایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی نے اپنے نئے تنظیمی ڈھانچے میں بلوچستان کے لیے ایک مخصوص ڈویژن قائم کیا ہے۔ بی ایل اے کا آئی ایس کے پی کے ساتھ لاجسٹک اشتراک اور القاعدہ و ٹی ٹی پی کے ساتھ مشترکہ تربیت صوبے میں دہشت گردی کے مربوط ہوتے نیٹ ورک کی واضح دلیل ہے۔
یہ دستاویزی شواہد ثابت کرتے ہیں کہ بی ایل اے کی سرگرمیاں صرف علاقائی دائرے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک وسیع تر بین الاقوامی دہشت گرد ماحولیاتی نظام کا فعال حصہ بن چکی ہیں۔
یہ پیش رفت اس لحاظ سے انتہائی اہم ہے کہ اس سے قبل امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اقوام متحدہ کی 1267 پابندیوں کی کمیٹی کے تحت بی ایل اے اور اس کے مجید بریگیڈ کو دہشت گرد قرار دینے کی پاکستان اور چین کی کوششوں کی مخالفت کی تھی، تاہم اقوام متحدہ کے اس تازہ ترین دستاویز نے ان تمام موقوفات کو شدید چیلنج کر دیا ہے۔