امریکی وفاقی ایجنسیوں اور مقامی پولیس نے مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے بھارتی شہریوں کے زیرِ انتظام چلنے والے انسانی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے جال کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان کاروائیوں کے دوران متعدد بھارتی شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر ویزا فراڈ سے لے کر خواتین کے جنسی استحصال جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
امریکی امیگریشن اور کسٹمز نافذ کرنے والے ادارے آئی سی ای اور یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے ہیوسٹن، ٹیکساس میں ایک مشترکہ کاروائی کے دوران ایک بھارتی شہری اور اس کی اہلیہ کو حراست میں لیا۔ تفتیش کے مطابق یہ جوڑا ٹیکساس میں انسانی اسمگلنگ کا ایک وسیع نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ ملزمان پر نہ صرف انسانی اسمگلنگ بلکہ دستاویزی فراڈ اور ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر مقیم رہنے کے الزامات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
تحقیقات میں ایک اور لرزہ خیز پہلو جنوری 2026 میں سامنے آیا، جب بھارتی نژاد موٹل آپریٹرز، کوشا اور ترون شرما کو منشیات اور جنسی اسمگلنگ کے کیس میں گرفتار کیا گیا۔ مذکورہ ملزمان اپنے موٹل کی تیسری منزل کو منظم طریقے سے منشیات کی فروخت اور فحاشی کے اڈے کے طور پر استعمال کر رہے تھے، جبکہ قانونی پردہ پوشی کے لیے نچلی منزلوں پر عام مسافروں کو ٹھہرایا جاتا تھا۔