امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان آج اہم مذاکرات دوپہر سے شروع ہوں گے، تاہم انہوں نے کسی ممکنہ معاہدے کے لیے حتمی ڈیڈ لائن دینے سے گریز کیا ہے۔
نیو جرسی سے واشنگٹن واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ رابطے مذاکراتی فریم ورک کے تحت ہو رہے ہیں، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ نشست کہاں ہوگی اور کون شریک ہوگا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا کیونکہ جنگ میں بہت سے لوگ جان سے جاتے ہیں، میری ترجیح بات چیت کے ذریعے معاہدہ طے کرنا ہے۔
انہوں نے ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا کہ ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی درخواست پر امریکا نے ایران پر بڑا فوجی حملہ مؤخر کیا ہے۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ اگر حملہ ہوتا تو یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا حملہ ہوتا، لیکن خطے کے ممالک کی اپیل پر اسے روکا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا امریکا کی اولین ترجیح ہے، اور امید ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ طے پا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی کی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے، جہاں سے دنیا کی 20 فیصد خام تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔
عالمی برادری کی نظریں آج ہونے والے ان مذاکرات پر مرکوز ہیں کیونکہ ان کے نتائج مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔
دیکھیے: ٹرمپ ایران کے خلاف سخت ترین فیصلے کے لیے تیار: امریکی وزیر خارجہ