واشنگٹن: امریکی عہدیدار نے تصدیق کی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے بھی برقرار ہیں۔ یہ بیان پاکستان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق عہدیدار نے تصدیق کی کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے کوششیں جاری ہیں، تاہم آئندہ مرحلے میں دونوں وفود کی ملاقات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر واضح ہے۔
یاد رہے کہ ہفتے کے روز پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے، جو تقریباً 24 گھنٹے جاری رہے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، جبکہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی وفد کا حصہ تھے۔ ایرانی وفد کی سربراہی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی، جن کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر حکام شریک تھے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ دونوں فریقین کے درمیان متعدد ادوار میں سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی کے عزم کو برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے، جبکہ پاکستان مستقبل میں بھی ایران اور امریکہ کے درمیان مکالمے اور سفارتی روابط کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جاری سفارتی عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اختلافات کے باوجود دونوں فریق مکمل تعطل کے بجائے کسی ممکنہ حل کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں، جہاں پاکستان کا کردار ایک مؤثر ثالث کے طور پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔
دیکھئیے:اسلام آباد مذاکرات کے بعد: امریکہ اور ایران کہاں کھڑے ہیں؟