کابل: افغانستان کی جانب سے امریکی شہری ڈینس کوائل کی رہائی کو بظاہر انسانی ہمدردی کا اقدام قرار دیا گیا، تاہم مبصرین اور ذرائع اسے امریکی دباؤ اور سفارتی مطالبات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
افغان حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ رہائی سپریم کورٹ کے فیصلے اور عیدالفطر سے قبل اہلخانہ کی اپیل کے تناظر میں کی گئی، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام کے پیچھے اصل محرکات مختلف ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تقریباً دو ہفتے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ڈینس کوائل کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد اس پیشرفت کو امریکی دباؤ سے جوڑا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو درپیش معاشی مشکلات اور بیرونی مالی انحصار بھی ایسے فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکا سے آنے والی مالی معاونت طالبان حکومت کیلئے اہم حیثیت رکھتی ہے، جس کے باعث اس نوعیت کے اقدامات کو سفارتی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم افغان حکام نے اس تاثر کی باضابطہ تصدیق نہیں کی اور اسے انسانی ہمدردی اور خیرسگالی کا اقدام قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیشرفت بیک وقت دو مختلف بیانیوں کو جنم دے رہی ہے، ایک طرف اسے مثبت سفارتی قدم کہا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب اسے بیرونی دباؤ کے تحت کیا گیا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔