امریکہ نے لبنان کی مسلح و سیاسی تنظیم حزب اللہ سے منسلک مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے نئی اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان پابندیوں کے تحت حزب اللہ کے لیے مالی معاونت اور فنڈز کی ترسیل میں مبینہ طور پر کردار ادا کرنے والے متعدد افراد اور کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر کے ان کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کا مؤقف
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ کاروائی حزب اللہ کے مالیاتی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے عمل میں لائی گئی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس حوالے سے جاری اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا لبنان اور پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز جمع کرنے والے عناصر پر پابندیاں عائد کر کے تنظیم کی مالیاتی سپلائی لائن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اہم شخصیات بلیک لسٹ
پابندیوں کی زد میں آنے والی اہم ترین شخصیات میں حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے نائب سربراہ محمود قماطی شامل ہیں، جن پر ایران سے حزب اللہ کو مالی رقوم منتقل کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ لبنانی سیاسی جماعت مارادا موومنٹ کے سربراہ سلیمان فرنجیہ کو بھی اس بلیک لسٹ کا حصہ بنایا گیا ہے، جن پر حزب اللہ کے سیاسی اتحاد کی فعال حمایت کا الزام ہے۔
سخت سزائیں
امریکی وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ ان اقدامات کے تحت نامزد کیے گئے تمام افراد اور کمپنیوں کے امریکا میں موجود تمام تر اثاثے فوری طور پر منجمد کر دیے جائیں گے۔
مزید برآں ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے امریکی اور غیر ملکی اداروں کو سخت قانونی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ نامزد افراد کے ساتھ کسی بھی قسم کا لین دین کرنے والے بینکاری ادارے بھی ان پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔