"> سگار کی حتمی رپورٹ: افغانستان میں امریکی جنگ کی ناکامی، طالبان کی عسکری طاقت اور پاکستان تک پھیلتا عدم استحکام - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سگار کی حتمی رپورٹ: افغانستان میں امریکی جنگ کی ناکامی، طالبان کی عسکری طاقت اور پاکستان تک پھیلتا عدم استحکام

سیگار کے مطابق اس 20 سالہ جنگ میں 2 ہزار 450 سے زائد امریکی فوجی ہلاک جبکہ 20 ہزار 700 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس کے باوجود مطلوبہ سیاسی اور سکیورٹی اہداف حاصل نہ ہو سکے۔
سگار کی حتمی رپورٹ: افغانستان میں امریکی جنگ کی ناکامی، طالبان کی عسکری طاقت اور پاکستان تک پھیلتا عدم استحکام

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیگار کی حتمی رپورٹ افغانستان میں امریکی مداخلت کی ناکامی کا سرکاری اعتراف ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ کس طرح طالبان کی عسکری مضبوطی اور حکمرانی نے علاقائی سلامتی، خصوصاً پاکستان، کے لیے نئے اور سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

January 3, 2026

افغانستان سے متعلق امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل برائے تعمیرِ نو کی حتمی رپورٹ نے 20 سالہ امریکی جنگ اور ریاست سازی کی کوششوں کو ایک بڑے اسٹریٹجک المیے کے طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ناکامی اچانک نہیں بلکہ برسوں کی غلط پالیسیوں، ناقص حکمتِ عملی، کرپشن اور افغان حکومت کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ تھی، جس کے اثرات آج نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے، بالخصوص پاکستان، میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے 2002 سے 2021 کے دوران افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے مجموعی طور پر 144.7 ارب ڈالر مختص کیے، جن میں سے 137.3 ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔ یہ رقم دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کی تعمیر کے لیے دیے گئے مارشل پلان سے بھی زیادہ تھی۔ اس کے علاوہ امریکا نے جنگی کارروائیوں پر 763 ارب ڈالر خرچ کیے۔ اس بھاری سرمایہ کاری کے باوجود افغان ریاست مضبوط نہ ہو سکی۔

افغان سکیورٹی فورسز پر 90 ارب ڈالر خرچ کیے گئے، جن کے تحت انہیں 147 ہزار سے زائد گاڑیاں، 23 ہزار سے زیادہ ہائی موبیلٹی وہیکلز، 900 بکتر بند گاڑیاں، 427 ہزار سے زائد ہتھیار، 17 ہزار سے زائد نائٹ وژن آلات اور 162 طیارے فراہم کیے گئے۔ تاہم SIGAR کے مطابق یہ فورسز امریکی موجودگی کے بغیر خود کفیل ثابت نہ ہو سکیں اور امریکی انخلا کے فوراً بعد بکھر گئیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکا تقریباً 7.1 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان افغانستان میں چھوڑ گیا، جو بعد ازاں طالبان کے قبضے میں آ گیا۔

سیگار کی رپورٹ اس امر کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ طالبان سے دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں افغان حکومت کو شامل نہ کرنا ایک سنگین اسٹریٹجک غلطی تھی، جس نے کابل حکومت کی ساکھ اور خودمختاری کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ عمل ریاستی ڈھانچے کے انہدام کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

رپورٹ میں انسدادِ منشیات اور استحکام کے منصوبوں کی ناکامی پر بھی سخت تنقید کی گئی ہے۔ انسدادِ منشیات پر 7.3 ارب ڈالر اور اسٹیبلائزیشن پروگرامز پر 4.7 ارب ڈالر خرچ کیے گئے، مگر یہ دونوں شعبے مکمل طور پر ناکام رہے۔ کرپشن، جعلی اہلکاروں (ghost employees) اور ایندھن کی چوری جیسے مسائل افغان اداروں کو اندر سے مفلوج کرتے رہے۔

سگار کے مطابق اس 20 سالہ جنگ میں 2 ہزار 450 سے زائد امریکی فوجی ہلاک جبکہ 20 ہزار 700 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس کے باوجود مطلوبہ سیاسی اور سکیورٹی اہداف حاصل نہ ہو سکے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کابل کے سقوط کے بعد بھی امریکا نے طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان کو 3.83 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی، جس میں مارچ 2025 کی سہ ماہی میں دیے گئے 120 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی ڈونرز نے اقوام متحدہ کے ذریعے 8.1 ارب ڈالر فراہم کیے جبکہ افغانستان ریکنسٹرکشن ٹرسٹ فنڈ کے تحت 1.5 ارب ڈالر کے منصوبے جاری رہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان ان امدادی رقوم پر ٹیکس عائد کرتے رہے، جس سے ان کی مالی طاقت میں اضافہ ہوا۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق اس تمام صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو طالبان کے ہاتھوں جدید ہتھیاروں اور وسائل کا جمع ہونا اور اس کا خطے میں پھیلاؤ ہے۔ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران دہشت گردی میں اضافے کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں طالبان کے زیرِ سایہ عناصر کی سرگرمیوں نے سرحد پار عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔

سیگار نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی خطرات اب بھی ختم نہیں ہوئے اور یہ رپورٹ مستقبل کی ریاست سازی کی کوششوں کے لیے ایک واضح تنبیہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق غلط مفروضات، ناقص نگرانی اور سیاسی شارٹ کٹس نہ صرف ایک ملک بلکہ پورے خطے کو دہائیوں تک عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیگار کی حتمی رپورٹ افغانستان میں امریکی مداخلت کی ناکامی کا سرکاری اعتراف ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ کس طرح طالبان کی عسکری مضبوطی اور حکمرانی نے علاقائی سلامتی، خصوصاً پاکستان، کے لیے نئے اور سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

دیکھیں: ایران میں قتل کی سازش، طالبان کی بیرونِ ملک خفیہ کارروائیاں بے نقاب

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *