افغان طالبان کی تعلیم دشمنی یا غیر پشتونوں کی نسلی تطہیر؛ طالبات کے لیے پرائمری تک تعلیم کی راہ میں بھی روڑے اٹکانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ جوزجان میں کم از کم 53 خواتین اساتذہ کو برطرف کر دیا گیا ہے، بعض اساتذہ کی جگہ پر کم پڑھی لکھی ایسی پشتون خواتین کا تقرر کیا جا رہا ہے جو کسی بااثر طالبان عہدیدار کی رشتہ دار ہیں۔
ذرائع کے مطابق طالبان چن چن کر غیر پشتون خواتین اساتذہ کو برطرف کر رہے ہیں یا ان کا تبادلہ کہیں دور دراز علاقوں میں کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ تنگ آکر نوکری چھوڑ دیں؛ جو نوکری نہ چھوڑے اسے کسی بھی الزام کے تحت برطرف کر دیا جاتا ہے۔ غیر پشتون خواتین کا کہنا ہے کہ طالبان نے ایک طرف تجربہ کار خواتین اساتذہ کو کام سے معطل کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف اپنے قریبی افراد کو تدریسی عہدوں پر مقرر کیا جا رہا ہے۔
جوزجان میں شبرغان کے گوہر شاد بیگم ہائی اسکول کی تاجک اساتذہ کو دور دراز علاقوں میں ٹرانسفر کیا گیا اور ان کی جگہ طالبان عہدیداروں کی رشتہ دار ایسی خواتین کو تعینات کیا گیا جو کم تعلیم یافتہ ہیں اور پڑھانے کا تجربہ بھی نہیں رکھتیں، جبکہ دوسرے مرحلے میں مختلف الزامات لگا کر ان تاجک اساتذہ کو برطرف کر دیا گیا۔ جن خواتین کا خلافِ ضابطہ تقرر کیا گیا ہے، ان میں محکمہ تعلیم میں ہیومن ریسورسز کے ڈائریکٹر صالح محمد کی بیٹی بھی شامل ہے۔
دیکھیے: کابل میں ہسپتال پر حملے کے الزامات؛ پاکستان کی فضائی کاروائی یا طالبان کا پری پلان ایکشن؟