بھارتی میڈیا نے ایک بار پھر اپنی داخلی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے روایتی ڈرامے کا سہارا لیا ہے۔ اس بار مغربی بنگال سے مبینہ طور پر ایک ’پاکستانی آئی ایس آئی ایجنٹ‘ کی گرفتاری کا عجیب و غریب اور مضحکہ خیز دعویٰ سامنے آیا ہے۔
بالی ووڈ سسپنس فلموں کو مات دیتی اس کہانی کے مطابق، دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایک خفیہ ترین جاسوس گزشتہ 14 سال سے بھارت کے اندر آزادانہ گھومتا رہا، عام ٹرینوں میں سفر کرتا رہا، اور اس نے سرکاری آدھار کارڈ بھی بنوا لیا۔ داستان کے مطابق یہ مبینہ جیمز بانڈ کسی سکیورٹی ادارے کی کارروائی سے نہیں، بلکہ مقامی ووٹر فہرست سے نام خارج ہونے پر پکڑا گیا۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارتی خبر رساں اداروں نے اس قسم کا سنسنی خیز اور غیر منطقی پراپیگنڈا کیا ہو۔ ماضی میں بھی جب بھارتی حکومت یا سکیورٹی اداروں کو اپنی کارکردگی، سرحدی ناکامیوں یا داخلی بدانتظامی پر عوامی تنقید کا سامنا ہوتا ہے، تو فوری طور پر پاکستان فیکٹر اور آئی ایس آئی کی فرضی داستانیں گھڑ کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دی جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہر ناکامی کا ملبہ پاکستان یا اس کے انٹیلی جنس اداروں پر ڈالنا بھارتی میڈیا کی پرانی عادت بن چکی ہے۔ سنسنی خیز پرائم ٹائم شوز کے ذریعے عوامی جذبات کو بھڑکانے کی بجائے بھارتی میڈیا کو چاہیے کہ وہ اپنے سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں سے سوال کرے کہ اگر یہ کہانی سچ ہے تو 14 سال تک ان کا نظام کہاں سو رہا تھا؟
دیکھیے: حسینہ واجد کا بیٹے کو آگے لانے کا نیا ڈرامہ: پاکستان مخالف بیانیہ ناکام