یمن کی المخا بندرگاہ پر حوثی باغیوں کے میزائل حملوں کے بعد تجارتی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔
بندرگاہ کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے حملوں میں المخا بندرگاہ کو 25 سے زائد میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد بندرگاہ نے تجارتی اور بحری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل کر دیں۔ ڈائریکٹر کے مطابق حملوں میں 7 افراد ہلاک ہوئے جبکہ نقصانات کا تخمینہ 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر لگایا گیا ہے۔
چھ بیلسٹک میزائلوں سے حملہ
یمنی حکومت کے مطابق حوثیوں نے المخا بندرگاہ پر 6 بیلسٹک میزائل فائر کیے، جن میں شہری، اقتصادی اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کے مطابق حملوں کا نشانہ سعودی عرب کی فوجی نفری، اسلحہ اور اس کے اتحادیوں سے وابستہ بحری کشتیاں تھیں۔
المخا بندرگاہ بحیرۂ احمر میں باب المندب آبنائے کے قریب واقع ہے، جو بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ بندرگاہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے زیرِ کنٹرول ہے، تاہم اس کی گنجائش یمن کی دو بڑی بندرگاہوں، عدن اور الحدیدہ، کے مقابلے میں کم ہے۔
خطے میں کشیدگی میں اضافہ
حالیہ ہفتوں کے دوران حوثی باغیوں نے امریکی اتحادیوں اور بحری جہاز رانی کے خلاف حملوں میں تیزی لائی ہے، اور چار سالہ غیر رسمی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب پر بھی حملہ کیا۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر دونوں میں بحری سلامتی پہلے ہی غیر مستحکم ہے۔