صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں سرکاری اسکولوں کی زبوں حالی نے صوبائی حکومت کے تعلیمی دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اپنے آبائی ضلع میں متعدد اسکول آج بھی بنیادی ترین سہولتوں سے یکسر محروم ہیں۔
علاقے کے تدریسی اداروں میں ڈیسک اور کرسیاں تک دستیاب نہیں ہیں۔ فرنیچر کی عدم دستیابی کے سبب معصوم بچیاں سخت سردی اور گرمی میں ناہموار فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
بنیادی سہولیات
اسکولوں میں فرنیچر کے ساتھ ساتھ بجلی اور روشنی کا مناسب نظام بھی موجود نہیں ہے۔ کلاس رومز میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے تعلیمی عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
عمارتوں کی مخدوش حالت، صفائی کے ناقص انتظامات اور بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی کے باعث تدریسی ماحول تباہ ہو کر رہ گیا ہے، جس پر اساتذہ اور والدین سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔
حکومتی ترجیحات
عوامی اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے حکومتی ترجیحات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبائی قیادت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے لانگ مارچ، دھرنوں اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
شہریوں کے مطابق صوبے کے اندر بنیادی شعبے شدید بحران کا شکار ہیں، لیکن حکمرانوں کی توجہ عملی اصلاحات کے بجائے احتجاجی سیاست پر مرکوز ہے۔
فوری اقدامات کا مطالبہ
علاقے کے والدین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے حکومت اور محکمہ تعلیم سے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ سیاسی نعروں کے بجائے نچلی سطح پر تعلیمی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
مقامی عمائدین نے زور دیا ہے کہ ضلع خیبر کے اسکولوں کو فوری طور پر فرنیچر، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات دی جائیں تاکہ طالبات مناسب ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
دیکھیے: حوثیوں کا سعودی اہداف پر بڑا حملہ، ریاض سمیت مختلف علاقوں میں ہائی الرٹ