چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان اور ترکمانستان کے مابین سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے توانائی، تجارت اور پارلیمانی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی ضرورت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا ہے۔ یہ بات انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں پاکستان میں تعینات ترکمانستان کے سفیر اتادجان موولاموف سے ملاقات کے دوران کہی۔
چیئرمین سینیٹ نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکمانستان کی دوستی مشترکہ اقدار، تاریخ اور ثقافت پر مبنی ہے۔ انہوں نے ترکمانستان کی مستقل غیر جانبداری کی پالیسی کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا اور واضح کیا کہ پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1991 میں ترکمانستان کی آزادی کو تسلیم کیا۔
ملاقات کے دوران سید یوسف رضا گیلانی نے توانائی کے شعبے، بالخصوص ایل پی جی، ریلوے روابط اور ترکمانستان۔ افغانستان۔ پاکستان۔ بھارت گیس پائپ لائن منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ترکمانستان کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے آئی ٹی، فارماسیوٹیکل اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔
چیئرمین سینیٹ نے ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف کو 2026 میں پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس دورے سے عوامی روابط اور دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو نئی جلا ملے گی۔ ترکمانستانی سفیر نے پاکستان کی حمایت کو سراہتے ہوئے گوادر پورٹ، ٹرانزٹ ٹریڈ اور علاقائی رابطہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور ہر سطح پر تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔