ماضی کی جنگوں اور مخصوص نظریاتی بیانیوں کے پس منظر میں یہ تلخ حقیقت سامنے آئی ہے کہ بعض فتوؤں نے معاشرے کو ایک ایسی راہ پر ڈال دیا جہاں عام لوگوں کے بچے میدانِ جنگ کی نذر کر دیے گئے، جبکہ فیصلہ ساز طبقات کے اپنے بچوں نے تعلیم، سیاست اور اقتدار کے راستے اختیار کیے۔ اس تضاد نے نہ صرف بے شمار خاندانوں کو بکھیر کر رکھ دیا ہے بلکہ ایک پوری نسل کو عدم استحکام اور مستقل محرومی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
فیصلہ ساز طبقے کا تضاد
تجزیہ کاروں کے مطابق جب قوم کے نوجوان کسی اور کی جنگ کا ایندھن بنتے ہیں اور فیصلے کرنے والے اپنے گھروں اور مفادات کو محفوظ رکھتے ہیں، تو اس کا نتیجہ اجتماعی پسماندگی، درد اور محرومی کی صورت میں نکلتا ہے۔ آج بھی کئی خاندان اپنے پیاروں کی ان قربانیوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں جن کا اصل فائدہ کسی اور طبقے کو پہنچا؛ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ فیصلے کس کے مفاد میں کیے جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں ڈالروں کے عوض جنگی فتوے دینے والے بعض عناصر نے اپنے بچوں کو اسمبلیوں اور اعلیٰ عہدوں تک پہنچایا، جبکہ غریب بالخصوص پشتون علاقوں کے نوجوان ان فتووں کی آڑ میں غیروں کی جنگ کی نذر ہو گئے۔ والدین آج بھی اپنے بچوں کی ان قربانیوں پر آہیں بھرتے نظر آتے ہیں۔
روشن مستقبل کی واحد راہ
موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ماضی کے ان تجربات سے سبق سیکھا جائے اور اپنے نوجوانوں کو علم، شعور اور مثبت ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ کسی بھی بیانیے یا فیصلے کو آنکھ بند کر کے قبول کرنے کے بجائے تحقیق، حکمت اور اجتماعی بھلائی کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آئندہ نسلیں امن، استحکام اور خود مختاری کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
قوم کی تعمیر اور والدین کی ذمہ داری
ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ ہر وہ شخص جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر عوام کے بچوں کو جنگ کی طرف راغب کرے لیکن اس کی اپنی اولاد اعلیٰ یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہو، وہ قوم کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا بلکہ دشمن ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں کو ہتھیار کے بجائے کتاب دیں کیونکہ قوموں کی اصل تعمیر میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ درس گاہوں میں ہوتی ہے۔