سابق امریکی خصوصی نمائندہ برائے افغانستان مفاہمت زلمے خلیل زاد کے حالیہ دورۂ کابل اور ایک نیوز چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو نے خطے میں سفارتی اور بیانیاتی کشمکش کو ایک نئے موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ یہ دورہ ایک طرف تو دو قیدی امریکی شہریوں کی رہائی کے مقصد کے ساتھ سامنے آیا، لیکن خلیل زاد کے بیانات اور ان کے پس پردہ مقاصد نے امریکہ اور طالبان کے درمیان نئی قسم کی مشروط رابطہ کاری کی عکاسی کی ہے۔
خلیل زاد نے انٹرویو میں تصدیق کی کہ ان کے دورے کا بنیادی مقصد دو امریکی شہریوں کو رہا کرانا تھا لیکن طالبان کی جانب سے اب تک کوئی حتمی جواب نہ ملنا فریقین کے درمیان اعتماد کے شدید فقدان کو واضح کرتا ہے۔ مبصرین کے مطابق امریکہ اس معاملے کو طالبان پر دباؤ بڑھانے اور مستقبل کی بات چیت میں اپنا مؤقف مضبوط بنانے کے لیے بطور سفارتی دباؤ کا ذریعہ استعمال کر رہا ہے۔
دوسری جانب خلیل زاد نے افغانستان میں جاری امریکی ڈرون آپریشن کو “خود دفاعی اقدامات” قرار دیتے ہوئے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ واشنگٹن طالبان کی سکیورٹی یقین دہانیوں پر پورا اعتماد نہیں رکھتا۔ یہ امریکی پوزیشن دراصل خطے میں اپنی فوجی اور انٹیلی جنس موجودگی کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
بگرام ایئربیس کے حوالے سے خلیل زاد کا بیان بھی مبہم رہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس سہولت کی بحالی کے لیے طالبان کے ساتھ بات چیت کر سکتا ہے بالخصوص اگر کابل میں امریکی سفارتخانہ دوبارہ کھولنا ہو۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ امریکہ ممکنہ طور پر افغانستان سے مکمل انخلاء کے بیانیے سے ہٹ کر ایک محدود فوجی یا تکنیکی واپسی کے راستے کھلا رکھنا چاہتا ہے۔
انٹرویو کے دوران پاکستان کے حوالے سے خلیل زاد کے بیانات میں ایک واضح دوہرا معیار دکھائی دیا۔ انہوں نے ایک طرف پاکستان کے ساتھ گزشتہ تعاون کو سراہا لیکن دوسری جانب انہوں نے پاکستان سے متعلق تحفظات کا بھی اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کے معاملے پر طالبان نے معقول تجاویز پیش کی ہیں، مگر پاکستان شاید مسئلے کے حل میں پوری طرح سنجیدہ نہیں۔ یہ بیانیہ دراصل پاکستان کو ایک مشکوک شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کی امریکی روایتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
خلیل زاد نے داعش کے خطرے کو بھی خطے کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ افغانستان میں موجود داعش کے کچھ عناصر پاکستان میں پناہ گزین ہیں۔ تاہم انہوں نے براہ راست الزام لگانے سے گریز کرتے ہوئے اسے انٹیلی جنس معاملہ قرار دیا، اور تیسرے فریق کی نگرانی کی تجویز پیش کی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی ایک اور کوشش ہے۔
خطے کے پرانے تنازعات جیسے ڈیورنڈ لائن اور پانی کے معاہدات کو دوبارہ اجاگر کرنا بھی خلیل زاد کی بات چیت کا حصہ رہا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی نریٹو حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد خطے میں مسلسل عدم استحکام کا تاثر قائم رکھنا اور امریکی مداخلت کے لیے فضا ہموار کرنا ہے۔
خلیل زاد کا یہ دورہ اور بیانات اس بات کی واضح علامت ہیں کہ امریکا افغانستان میں اپنی سفارتی، فوجی اور بیانیاتی موجودگی کو مکمل ختم کرنے کے بجائے، اسے ایک نئے، کنٹرولڈ اور مشروط انداز میں برقرار رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔ طالبان کو سفارتی سطح پر جزوی طور پر قبول کرتے ہوئے بھی، امریکا خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستان سمیت دیگر اہم فریقین پر دباؤ کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس انٹرویو نے نہ صرف موجودہ امریکی حکمت عملی کی عکاسی کی ہے، بلکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ افغانستان اور خطے کی مستقبل کی سیاسی و سلامتی کی صورتحال ابھی تک غیر یقینی اور پیچیدہ چیلنجز سے دوچار ہے۔
دیکھیں: ایران میں قتل کی سازش، طالبان کی بیرونِ ملک خفیہ کارروائیاں بے نقاب