تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی تناؤ کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں اور مستقبل کی علاقائی حکمت عملی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

February 15, 2026

سیاسی و سماجی حلقوں کے مطابق ماضی میں ایسے کئی افراد کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا رہا کہ وہ لاپتہ ہیں اور انہیں ریاستی اداروں نے تحویل میں لے رکھا ہے۔ اس تناظر میں بعض تنظیمیں، جن میں بلوچ یکجہتی کمیٹی بھی شامل ہے، ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔

February 15, 2026

پاسنگ آؤٹ پریڈ میں نوشکی میں شہید ہونے والے خطیب امشد علی کے والدِ محترم نواب خان کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا۔ تقریب کے دوران شہید کی فیملی کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے عزم و حوصلے کو سراہا گیا۔

February 15, 2026

دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات سابق وزیرِ اعظم کو آنکھوں کے جاری مسئلے کے باعث مختصر مدت کے لیے الشفا ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں تقریباً 20 منٹ کا طبی طریقۂ کار انجام دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ انہیں علاج کے بعد دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

February 15, 2026

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ “پورا پاکستان جیتیں گے اور ملک کو بنائیں گے، وزیر اعظم بلاول ہوں گے۔” ان کا اشارہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب تھا، جنہیں انہوں نے مستقبل کی قیادت کے طور پر پیش کیا۔

February 15, 2026

ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان پر پابندیوں کو ناجائز قرار دیا ہے، تاہم اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور ٹی ٹی پی کے سرحد پار حملے ان دعووں کی نفی کرتے ہیں

February 15, 2026

قومی ہیرو بابا دین محمد ۱۰۴ سال کی عمر میں انتقال کر گئے

بابا دین محمد وہ تاریخی شخصیت ہیں جنہوں نے ۱۹۵۴ کے ایشیائی کھیلوں میں ایک تاریخ رقم کی

پاکستان کے پہلے گولڈ میڈلسٹ بابا دین محمد ۱۰۴سال کی عمر میں انتقال کرگئے

July 4, 2025

سندھ۴جولائی ۲۰۲۵: پاکستان نے ایک عظیم قومی ہیرو سےمحروم ہوگیا۔ قومی ہیروبابا دین محمد جو ملک کے پہلے گولڈ میڈلسٹ تھے، ۱۰۴ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اسپورٹس بورڈ پنجاب نے بیان جاری کرتی ہوئے کہاکہ بابا دین محمد کافی عرسےسے صاحبِ فراش تھے۔

بابا دین محمد نے کئی دہائیاں قبل۱۹۵۴میں ایک تاریخ رقم کی، جب انہوں نے منیلا میں منعقدہ ایشیائی کھیل کُشتی میں گولڈ میڈل اپنےنام کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پرزورآزمائی کے مقابلے میں گولڈ میڈل اپنےنام کیا۔ یہ لمحہ تھا جس نے آزادی کے محض سات سال بعد قوم کے حوصلوں جلابخشی۔

بابادین محمد کےچاہنےوالوں زور نے اپنے عظیم کھلاڑی کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

کھیلوں میں ایک رہنما

تقسیم ہند سے پہلے پیدا ہونے والے بابا دین محمد نے کم عمری میں ہی کُشتی (زورآزمائی) شروع کر دی تھی۔ انہوں نے جدید سہولیات کے بغیر تربیت حاصل کی، لیکن ان کے نظم و ضبط اور طاقت نے انہیں پہلوانی کے میدان میں ایک مضبوط کھلاڑی بنا دیا۔ منیلا میں ایشیائی کھیلوں میں ان کا گولڈ میڈل نہ صرف پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروانے کا باعث بنا بلکہ ملک بھر کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے روشن باب کا ذریعہ بنے۔

انہوں نے اپنی پوری زندگی(کُشتی) زورآزمائی کھیل میں گزاری۔ حتیٰ کہ بڑھاپے میں بھی وہ کشتی کے مقابلوں میں شرکت کرتے اور نوجوان پہلوانوں کو رہنمائی فراہم کرتے رہے۔

خراج عقیدت

بابا دین محمد کی یاد میں اسپورٹس بورڈ پنجاب اور پاکستان ریسلنگ فیڈریشن نے ایک یادگار کشتی مقابلے کا اعلان کی

پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام نے ورثاء کے ساتھ اپنی اظہار تعزیت کی ہے۔ ترجمانِ وزیر اعظم نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے بابا دین محمد کو “پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ کے بانیوں میں سے ایک” قرار دیا۔

ریاستِ پاکستان صرف ایک کھلاڑی سےمحروم نہیں ہوئی، بلکہ طاقت، استقامت اور اتحاد کی ایک علامت کو کھو دیا ہے۔ بابا دین محمد ہمیشہ پاکستان کی تاریخ میں ایک قومی ہیرو کے طور پر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

متعلقہ مضامین

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی تناؤ کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں اور مستقبل کی علاقائی حکمت عملی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

February 15, 2026

سیاسی و سماجی حلقوں کے مطابق ماضی میں ایسے کئی افراد کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا رہا کہ وہ لاپتہ ہیں اور انہیں ریاستی اداروں نے تحویل میں لے رکھا ہے۔ اس تناظر میں بعض تنظیمیں، جن میں بلوچ یکجہتی کمیٹی بھی شامل ہے، ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔

February 15, 2026

پاسنگ آؤٹ پریڈ میں نوشکی میں شہید ہونے والے خطیب امشد علی کے والدِ محترم نواب خان کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا۔ تقریب کے دوران شہید کی فیملی کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے عزم و حوصلے کو سراہا گیا۔

February 15, 2026

دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات سابق وزیرِ اعظم کو آنکھوں کے جاری مسئلے کے باعث مختصر مدت کے لیے الشفا ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں تقریباً 20 منٹ کا طبی طریقۂ کار انجام دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ انہیں علاج کے بعد دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

February 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *