پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

پاکستانی پارلیمانی وفد کا دورۂ برطانیہ: کشمیر مذاکرات پر زور

پاکستانی پارلیمانی وفد کا برطانیہ کا دورہ، کشمیر مذاکرات کو اجاگر کرنے، علاقائی امن کے فروغ اور بھارت کے ساتھ سفارتی حل پر زور دینے کے لیے۔
کشمیر مذاکرات پر زور

سابق وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں 9 رکنی اعلیٰ سطحی پاکستانی پارلیمانی وفد نے واشنگٹن اور نیویارک کے کامیاب دوروں کے بعد لندن پہنچ کر کشمیر کے مسئلے پر سفارتی کوششیں تیز کر دیں۔ [ریڈیو پاکستان]

June 9, 2025

لندن میں سفارتی مشن: کشمیر مذاکرات کے لیے عالمی حمایت کی کوشش
لندن، 9 جون 2025 — پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ایک 9 رکنی اعلیٰ سطحی پاکستانی پارلیمانی وفد لندن پہنچ گیا ہے۔ یہ دورہ واشنگٹن اور نیویارک میں سفارتی ملاقاتوں کے بعد عمل میں آیا ہے۔ وفد کا مرکزی مقصد پاکستان اور بھارت کے حالیہ تنازع پر پاکستان کا مؤقف پیش کرنا اور جموں و کشمیر کے پرامن حل کے لیے کشمیر مذاکرات کو اجاگر کرنا ہے۔

وزیر اعظم کی ہدایت پر علاقائی امن کی سفارتی مہم
وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر یہ وفد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے امن اور خطے میں استحکام کے عزم کو تقویت دینے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ وفد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی اہمیت پر زور دے رہا ہے۔

وفد کی ساخت اور اہم ملاقاتیں
اس اعلیٰ سطحی وفد میں بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ یہ اہم سیاسی اور سفارتی شخصیات شامل ہیں:

ڈاکٹر مصدق ملک (وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی)

سینیٹر شیری رحمان (سابق وفاقی وزیر اور ماحولیاتی کمیٹی کی چیئرپرسن)

حنا ربانی کھر (قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر خارجہ)

انجینئر خرم دستگیر خان (سابق وزیر دفاع، تجارت و خارجہ)

سینیٹر فیصل سبزواری (ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما)

سینیٹر بشریٰ انجم بٹ

سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی

سابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ

لندن میں وفد کی ملاقاتیں برطانوی پارلیمنٹ کے سینئر اراکین، آل پارٹیز پارلیمنٹری گروپس برائے پاکستان اور جموں و کشمیر، اور برطانیہ کے دفتر خارجہ (FCDO) کے حکام سے طے ہیں۔

عالمی میڈیا اور تھنک ٹینکس سے روابط
وفد بین الاقوامی میڈیا، تھنک ٹینکس، اور رائے ساز اداروں کے ساتھ بھی بات چیت کرے گا تاکہ پاکستان کے سفارتی طرز عمل، علاقائی استحکام اور کشمیر مذاکرات کے لیے سنجیدہ کوششوں کو اجاگر کیا جا سکے۔

وفد کے اراکین بھارت کی “جارحانہ پالیسیوں” اور پاکستان کے تحمل و امن پسندی پر زور دیتے ہوئے پرامن مذاکرات کو واحد راستہ قرار دیں گے۔

پانی، امن اور مذاکرات کا بیانیہ
مزید برآں پاکستانی وفد سندھ طاس معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے اور جنوبی ایشیا میں امن و تعاون کے لیے عالمی کردار پر زور دے گا۔ وفد کا مقصد دنیا کو باور کرانا ہے کہ کشمیر مذاکرات کے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں۔

متعلقہ مضامین

پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *