سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کے بعد اتحادی طیاروں نے یمن میں حوثیوں کے 82 ٹھکانے تباہ کر دیے، جبکہ یمنی فورسز نے 1860 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

October 8, 2026

سعودی عرب کی درخواست پر شام کا یمن میں فوجی تعاون کے مختلف آپشنز پر غور، حوثیوں کے خلاف کارروائی میں مدد کی تجویز زیر غور ہے۔

October 8, 2026

پشاور ہائیکورٹ نے لانگ مارچ کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کے مبینہ استعمال پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے جواب طلب کر لیا ہے۔

October 8, 2026

معروف بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں گوا میں انتقال کر گئے، ان کے مداحوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

October 8, 2026

اکتوبر 2005 کی وہ صبح 21 برس بعد بھی ختم نہیں ہوئی۔ مظفرآباد، بالاکوٹ اور باغ کی گلیوں میں آج بھی کوئی ماں کسی تصویر کو دیکھ کر خاموش ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اس دکھ سے کیا سیکھا؟

October 8, 2026

چودہ اگست – جہدِ مسلسل کا ایک تاریخی دن

اس عنوان پر اگر ایک عمیق نظر ڈالی جائے تو انسانی ذہن یہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہیکہ آخر وہ کونسی ایسی جدوجہد تھی جسکو حاصل کرلینے پر14 اگست کو تاریخی دن قرار دیا گیا
اس عنوان پر اگر ایک عمیق نظر ڈالی جائے تو انسانی ذہن یہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہیکہ آخر وہ کونسی ایسی جدوجہد تھی جسکو حاصل کرلینے پر14 اگست کو تاریخی دن قرار دیا گیا

اب دیکھنا یہ ہیکہ جن مقاصد کے لیے اتنی سعی کی گئی، تکالیف، مصائب جھیلے گئے الغرض جن مقاصد کے لیے لاکھوں لوگوں ہجرت کرنا پڑی کیا ہم نے ان 78 سالوں وہ مقاصد حاصل کرلیے ہیں؟

August 14, 2025

انسانی فطرت میں قید و بند سی چیز ڈالی ہی نہیں گئی چاہے پھر وہ ذہنی ہو یا جسمانی۔

بلکہ انسانی تخلیق کے اوائل سے انسان کی فطرت میں آزادی جیسی نعمت اس قدر آراستہ کی گئی کہ جس کے حصول کے لیے ہر دور میں جدوجہد ہوتی آئی ہے۔

,”چودہ اگست جہدِ مسلسل کا ایک تاریخی دن” اس عنوان پر اگر ایک عمیق نظر ڈالی جائے تو انسانی ذہن یہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہیکہ آخر وہ کونسی ایسی جدوجہد تھی جسکو حاصل کرلینے پر14 اگست کو تاریخی دن قرار دیا گیا اور وہ ایسی کیا جدوجہد تھی اور جس کے لیے دس لاکھ انسانوں نے اپنے آپ کو قربان کرڈالا۔

دنیا میں موجود کسی بھی قوم کی آزادی کا اگر بغور بغور مطالعہ یا تذکرہ کرتے ہوئے اس آزادی کی بنیاد و بانیان کو فراموش کردیا جائے تو ایسا طرز عمل ان سرفرشوں کے ساتھ بد دیانتی اور ناانصافی میں شمار ہوگا۔ 14 اگست 1947 سے منسوب آزادی کا ماضی اور ابتدائی دور دیکھا جائے تو 1757 میں لڑی گئی ایک جنگ جسے جنگِ پلاسی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس آزادی کی جدوجہد کا یہاں سے آغاز سے ہوا اور دشوار زدہ سفر میں باوجود نشیب و فراز آنے کے جنگِ آزادی، تحریک ریشمی رومال، قراردادِ لاہور سے ہوتا یہ سفربالآخر 14 اگست 1947 کو منزلِ مقصود پر پہنچا۔

ستارہ سو ستاون میں پیش آنے والی ایسی زوال زدہ جنگ جو جنگِ پلاسی کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا تابناک دن تھا جس روز صرف ایک حکمران کو شکست نہیں ہوئی تھی بلکہ محکومیت اور غلامی کی سیاہ راتوں نے ہندوپاک پر اسی جنگ کے بعد اثر انداز ہونا شروع کردیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے بنگلہ دیش سمیت پورے برِ صغیر میں آزادی محض ایک تصور بن کررہ گئی اور چار سو استعماری قوتیں راج کرنے لگی تھیں۔

وہ سرزمین جہاں کبھی آزاد ذہن نشونما پاتے تھَے ایسی سرزمین طاغوتی قوتوں کے زیرِ اثر ہوکر رہ گئی اور پھر 1757 سے لیکر ایک صدی پر محیط انہی کا تسلط رہا لیکن آخر ایک دن آزادی پسند لوگ غلامی کے طوق کو ختم کرکے ہی دم لیتے ہیں، یہاں بھی چشمِ فلک نے ایسا ہی منظر دیکھا۔

ٹھیک ایک صدی بعد سرفروشانِ اسلام ںے ایک ایسی تحریک کی بنیاد رکھی جسے جنگِ آزادی کا نام دیا گیا اگرچہ یہ ایک منظم تحریک تھی لیکن میر جعفر و میر صادق جیسے بدنُما کردار اور وسائل کی کمی جیسی وجوہات اس تحریک کی ناکامی کا سبب بنی۔ اس امر کے بعد ایک جانب جہاں مسلمان قائدین شدید مصائب و آلام کا شکار ہوئے تو وہیں دوسری جانب سامراجی قوتوں نے اپنے ناپاک عزائم اور اس زعم کے ساتھ برِ صغیر میں اپنے قدم مزید مضبوط کرلیے کہ اب کوئی مزاحمت نہیں کرسکے گا۔ لیکن انہیں کہاں علم تھا کہ آزادی پسند لوگ کبھی بھی طویل وقت کے لیے قید کی زندگی نہیں گزار سکتے، آزادی کا نعرہ اور تحریک وقتی طور پر خاموش اور دب تو سکتی ہے لیکن پھر ایک ایسا وقت آتا ہیکہ یہ تحریک ایک قد آور و تناور درخت کی صورت میں اُبھر کر ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے کو ملا بر صغیر کے لوگوں کی جدوجہد، ناکامی، شکست، مزاحمت تمام چیزوں سے نبردآزما ہونے کے باوجود اپنے حوصلے پست نہ ہونے دیے۔

بالآخر اپنے ماضی اور بزرگوں کی روِش کو اپناتے ہوئے جنگِ آزادی، تحریک ریشمی رومال، جنگِ پلاسی کی یاد تازہ کرتے ایک آزاد ریاست کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ ابتداءً وہی 313 والا منظر تھا لیکن دیکھتے دیکھتے لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا کا مصداق بنتے ہوئے ہوئے 1930 کے بعد اس تحریک میں ایک نئی پھونکی گئی۔ پھر ایسی شخصیات نے اس تحریکی جدوحہد میں حصہ لیا۔ چشمِ فلک نے وہ منظر بھی دیکھا کہ آزادی کے لیے ماؤں نے اپنے لختِ جگر قربان کرڈالے، بچے یتیم کروائے، عورتیں بیوہ ہوئیں لیکن ان سرفروشوں نے اپنی زندگی کو ارضِ وطن کے حصول کے لیے داؤ پر لگادی۔ برِ صغیر کے مسلمانوں نے سر دھڑ کی بازی لگاتے ہوئے ایسی تاریخ رقم کی کی دس لاکھ سے زائد آزادی پسند لوگوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اس طویل جدوجہد کے بعد کہیں جاکر آزادی نصیب ہوئی اور پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔

اب دیکھنا یہ ہیکہ جن مقاصد کے لیے اتنی سعی کی گئی، تکالیف، مصائب جھیلے گئے الغرض جن مقاصد کے لیے لاکھوں لوگوں ہجرت کرنا پڑی کیا ہم نے ان 78 سالوں وہ مقاصد حاصل کرلیے ہیں؟ اپنی متعین کردہ منزل کو پالیا ہے یا کہیں ایسا تو نہیں جہاں آٹھ دہائیاں بیت گئی ہیں وہیں ایک مکمل صدی بھی بیت جائے گی اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے؟

دیکھیں: زخموں سے روشنی تک – کہانی پاکستان کی

متعلقہ مضامین

سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کے بعد اتحادی طیاروں نے یمن میں حوثیوں کے 82 ٹھکانے تباہ کر دیے، جبکہ یمنی فورسز نے 1860 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

October 8, 2026

سعودی عرب کی درخواست پر شام کا یمن میں فوجی تعاون کے مختلف آپشنز پر غور، حوثیوں کے خلاف کارروائی میں مدد کی تجویز زیر غور ہے۔

October 8, 2026

پشاور ہائیکورٹ نے لانگ مارچ کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کے مبینہ استعمال پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے جواب طلب کر لیا ہے۔

October 8, 2026

معروف بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں گوا میں انتقال کر گئے، ان کے مداحوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

October 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *