وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا ایران سے پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کا اعلان؛ 70 شہری وطن پہنچ گئے، سرحدی مقامات پر سہولیات فراہم کرنے کے احکامات

March 2, 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد روس کی درخواست پر آئی اے ای اے کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں جوہری تنصیبات کی حفاظت پر غور ہو گا

March 2, 2026

نریندر مودی اور نیتن یاہو کے حالیہ رابطے نے ایران اور مسلم ممالک کے خلاف بھارتی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے

March 2, 2026

افغانستان کے صوبہ قندوز میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے جنگجوؤں نے طالبان کے خلاف حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین طالبان اہلکار ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے

March 2, 2026

آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستان کا جلال آباد میں ڈرون اور گولہ بارود کے ڈپو پر کامیاب حملہ؛ افغان طالبان کی اشتعال انگیزی کا موثر جواب دے دیا گیا

March 2, 2026

ٹرمپ نے جو جنگ شروع کی ہے یہ جنگ در اصل امریکا کیخلاف جنگ ہے۔ اسرائیل تو پہلے ہی دنیا بھر میں نفرت کی علامت بن چکا۔ ٹرمپ امریکا کو بھی نفرت کی علامت بنا رہے ہیں۔ مسلم دنیا کے وہ حکمران جو ٹرمپ کی زبان سے اپنی تعریفیں سُن کر بہت خوش ہوتے تھے بہت جلد دعائیں مانگیں گے کہ ٹرمپ دوبارہ اُنکی کبھی تعریف نہ کرے کیونکہ ٹرمپ اب امریکا میں بھی نفرت کی علامت بنتا جا رہا ہے-

March 2, 2026

وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ سے 2 امریکی سکیورٹی اہلکار زخمی؛ حملہ آور افغان شہری نکلا

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے مشتبہ حملہ آور کی شناخت رحمان اللہ لکنوال کے نام سے کی ہے، جو 29 سالہ افغان شہری ہے۔

November 27, 2025

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس سے چند بلاکس کے فاصلے پر فائرنگ کے ایک واقعے میں ویسٹ ورجینیا سے تعلق رکھنے والے دو نیشنل گارڈ اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔ واقعہ بدھ کی دوپہر پیش آیا، جب دونوں اہلکار شہر میں ہائی ویزیبلٹی پیٹرولنگ پر مامور تھے۔ حملہ آور نے اچانک ایک کونے سے نمودار ہو کر مسلسل فائرنگ شروع کردی۔

ٹرمپ نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کو دہشت گردی کا عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ “نفرت انگیز اور دہشت گردی کا واقعہ” ہے اور “سنگین جرم” ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور افغانستان سے آیا تھا اور 2021 میں امریکہ داخل ہوا تھا۔

حملہ آور کون تھا؟

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے مشتبہ حملہ آور کی شناخت رحمان اللہ لکنوال کے نام سے کی ہے، جو 29 سالہ افغان شہری ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہ 2021 میں امریکی انخلا کے دوران آپریشن الائیز ویلکم کے تحت امریکہ منتقل ہوا تھا۔

بعد ازاں اس نے 2024 میں پناہ کی درخواست دی، جو اپریل 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے منظور کی۔

افغانستان کے سابق زیرو یونٹ سے تعلق

امریکی انٹیلیجنس کے مطابق رحمان اللہ لکنوال سابق افغان حکومت کے نیشنل ڈیفنس سسٹم کے زیرو یونٹ کا سابق اہلکار تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسے نمروز سے امریکی فوج نے 2021 میں ایئرلفٹ کیا تھا۔

فائرنگ کا منظر اور عینی شاہدین کے بیانات

عینی شاہد کے مطابق فائرنگ اچانک ہوئی اور اہلکاروں کو متعدد گولیاں لگیں۔ ایک خاتون نے بتایا کہ ایک زخمی اہلکار کو دل کی دھڑکن بحال کرنے والے آلات کے ساتھ ایمبولینس میں منتقل کیا گیا اور اس کا چہرہ خون سے لت پت تھا۔ واقعے کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی، قریبی سڑکیں بند ہو گئیں اور خفیہ سروسز سمیت متعدد اداروں نے علاقہ گھیرے میں لے لیا۔

حملہ آور زخمی حالت میں گرفتار

حملہ آور بھی جھڑپ میں زخمی ہوا اور اسے موقع سے گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق اس کے ساتھ کوئی دوسرا شخص شامل نہیں تھا اور علاقے میں مزید خطرے کی اطلاع نہیں ملی۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی اور امیگریشن پالیسی میں سختی

فائرنگ کے بعد امریکی امیگریشن ادارے نے اعلان کیا کہ افغان شہریوں سے متعلق تمام امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ کو غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق سیکیورٹی اور ویٹنگ پروٹوکولز کا از سرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کا بیان اور افغان تارکین وطن کی دوبارہ جانچ کا اعلان

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ “ہمیں افغانستان سے آنے والے ہر فرد کی دوبارہ جانچ کرنا ہوگی” اور ایسے افراد کو ملک سے نکالنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جو “امریکہ سے محبت نہیں کرتے”۔ انہوں نے اس واقعے کا ذمہ دار سابق انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں کو قرار دیا۔

نیشنل گارڈ کی اضافی تعیناتی

امریکی وزیر دفاع کے مطابق صدر نے واشنگٹن ڈی سی میں مزید 500 نیشنل گارڈ اہلکار فوری طور پر تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ شہر میں پہلے ہی تقریباً 2,375 نیشنل گارڈ اہلکار تعینات تھے۔

مسلط کردہ لاک ڈاؤن اور ابتدائی غلط اطلاعات

فائرنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کو مختصر طور پر لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ ویسٹ ورجینیا کے گورنر کی جانب سے ابتدائی طور پر دونوں اہلکاروں کی ہلاکت کی غلط اطلاع بھی جاری ہوئی، جسے بعد میں واپس لینا پڑا۔

مسلم اور افغان کمیونٹی میں تشویش

واقعے کے بعد امریکی مسلم اور افغان کمیونٹیز میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ مختلف شہری تنظیموں نے عوام سے اپیل کی کہ حملہ آور کے اعمال کی بنیاد پر پوری افغان کمیونٹی کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ افغان نژاد امریکی تنظیموں نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی۔

افغان قومی مزاحمتی محاذ کا ردعمل

افغانستان کے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملہ آور کا تعلق طالبان کے دائرۂ اثر سے ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2021 کے بعد طالبان نے ہزاروں افراد کو غیر مصدقہ پاسپورٹس پر بیرون ملک بھیجا جس سے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

تحقیقات جاری

ایف بی آئی اس حملے کو ممکنہ بین الاقوامی دہشت گردی کے زاویے سے دیکھ رہی ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی محرک سامنے نہیں آیا۔ پولیس اور وفاقی ادارے تمام ثبوتوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

دیکھیں: اسلام آباد خودکش حملے کی منصوبہ بندی افغانستان سے کی گئی، وزیرِ اطلاعات

متعلقہ مضامین

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا ایران سے پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کا اعلان؛ 70 شہری وطن پہنچ گئے، سرحدی مقامات پر سہولیات فراہم کرنے کے احکامات

March 2, 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد روس کی درخواست پر آئی اے ای اے کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں جوہری تنصیبات کی حفاظت پر غور ہو گا

March 2, 2026

نریندر مودی اور نیتن یاہو کے حالیہ رابطے نے ایران اور مسلم ممالک کے خلاف بھارتی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے

March 2, 2026

افغانستان کے صوبہ قندوز میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے جنگجوؤں نے طالبان کے خلاف حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین طالبان اہلکار ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے

March 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *