ماہرین نے پی ٹی آئی کو نظریات کے بجائے شخصیت پرستی کا شکار جماعت قرار دے دیا

سیاسی تجزیہ نگاروں نے پی ٹی آئی کے تنظیمی رویوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی دیگر جماعتوں اور اپنے ہی مخلص رہنماؤں کی قربانیوں کو نظر انداز کر کے محض ایک شخصیت کے گرد گھومنے والے ‘کلٹ’ کی صورت اختیار کر چکی ہے
ہمدان علی کی ہلاکت: بی ایل اے کا “لاپتہ افراد” والا جھوٹا بیانیہ بے نقاب

بی ایل اے کا “لاپتہ افراد” سے متعلق بیانیہ اس وقت بری طرح ناکام ہو گیا جب ہمدان علی عدالت میں پیش ہوئے؛ دہشت گرد تنظیم نے اپنے نیٹ ورک کے راز فاش ہونے کے خوف سے اپنے ہی کارندے کو “خاموش” کروا دیا
طالبات پر مسلح گروہوں کا دباؤ اور استحصال؛ ثانیہ بلوچ کے والد کا بیٹی سے لاتعلقی کا اعلان

آواران سے تعلق رکھنے والی طالبہ ثانیہ کے والد نے پریس کانفرنس میں بیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بی ایل اے اور بی وائی سی جیسے گروہ نوجوان لڑکیوں کو جھوٹے نعروں سے ورغلا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں
روز ویلٹ ہوٹل کی ازسر نو تعمیر و ترقی کیلئے پاکستان اور امریکہ کے مابین معاہدہ طے پاگیا

روزویلٹ ہوٹل منصوبہ، پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی شراکت داری کے نئے باب کا آغاز، اسٹیو وٹکوف اور محمد اورنگزیب کی شرکت
پاکستان کا مؤقف: ویزا نظام مکمل ڈیجیٹل، کابل میں بلیک مارکیٹ کے الزامات بے بنیاد قرار

پاکستان کا ویزا نظام مکمل ڈیجیٹل اور مرکزی نگرانی کے تحت ہے، جس میں کسی بھی غیر رسمی مداخلت یا بدعنوانی کی کوئی گنجائش موجود نہیں
افواہوں کے سوداگر اور سوشل میڈیا پر جھوٹ کا بازار

سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں سخت زبان استعمال کی گئی ہے اور بعض شخصیات کو القابات دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور ذمہ دارانہ صحافت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی فرد پر الزامات عائد کرنے سے قبل شواہد اور قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔
عدالت میں یورپی سفارتکار کی موجودگی پر سوال، جج کے استفسار پر کمرۂ عدالت سے روانہ

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف مقدمے کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر مقرر کر دی گئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق کیس کے قانونی پہلوؤں اور شواہد کا جائزہ آئندہ پیشیوں میں لیا جائے گا۔
کیا آپ بھی کسی کے حصے کے بے وقوف ہیں؟

سیاسی کارکن ایک نعمت ہوتا ہے مگر سیاسی کارکن شعور کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ بے لگام عصبیت کا اندھا مجاور نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ہر عصبیت کے گرد زباں بکف کارکنان ہیں ۔ ہر رہنما کے گرد اس کے حصے کے بے وقوفوں کی فصیل ہے۔ یہ کسی دلیل کے محتاج نہیں ، ان کے لے ان کا قائد ہی معیار حق ہے۔ معاشرہ ان کے ہاتھوں یر غمال ہے ، اس کا دم گھٹ رہا ہے۔