"> افواہوں کے سوداگر اور سوشل میڈیا پر جھوٹ کا بازار - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افواہوں کے سوداگر اور سوشل میڈیا پر جھوٹ کا بازار

سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں سخت زبان استعمال کی گئی ہے اور بعض شخصیات کو القابات دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور ذمہ دارانہ صحافت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی فرد پر الزامات عائد کرنے سے قبل شواہد اور قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔
افواہوں کے سوداگر اور سوشل میڈیا پر جھوٹ کا بازار

ڈیجیٹل میڈیا کے مبصرین کے مطابق پاکستان میں آن لائن صحافت اور تبصرے کا دائرہ وسیع ہوا ہے، لیکن اس کے ساتھ غلط معلومات اور غیر مصدقہ خبروں کا مسئلہ بھی بڑھا ہے۔

February 21, 2026

حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک نئے بیانیے کے تحت چند معروف آن لائن شخصیات اور وی لاگرز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض افراد روزانہ کی بنیاد پر غیر مصدقہ معلومات، قیاس آرائیوں اور سنسنی خیز دعوؤں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔

مہم چلانے والوں کا مؤقف ہے کہ مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور تبصرہ نگار بغیر مستند ذرائع کے ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرتے اور اشتعال انگیز بیانات نشر کرتے ہیں، جس سے معاشرے میں بے چینی اور بداعتمادی کو فروغ ملتا ہے۔ ان کے مطابق یہ عناصر “جھوٹ اور افواہوں” کو بطور کاروبار استعمال کرتے ہوئے بیرونِ ملک ناظرین اور مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں سخت زبان استعمال کی گئی ہے اور بعض شخصیات کو القابات دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور ذمہ دارانہ صحافت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی فرد پر الزامات عائد کرنے سے قبل شواہد اور قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا کے مبصرین کے مطابق پاکستان میں آن لائن صحافت اور تبصرے کا دائرہ وسیع ہوا ہے، لیکن اس کے ساتھ غلط معلومات اور غیر مصدقہ خبروں کا مسئلہ بھی بڑھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ وہ خبروں کی تصدیق کریں، مختلف ذرائع کا جائزہ لیں اور سنسنی خیز دعوؤں پر فوری یقین نہ کریں۔

دوسری جانب جن افراد کو اس مہم کا ہدف بنایا جا رہا ہے، ان کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ آن لائن مباحث کو ذاتی حملوں کے بجائے دلیل اور شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھانا زیادہ مؤثر ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سوشل میڈیا دور میں معلومات کی رفتار تیز ہے، اس لیے ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ریاستی اداروں، صحافتی برادری اور عوام سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جھوٹ اور افواہوں کے سدباب کے لیے قانون، شفافیت اور میڈیا لٹریسی کو فروغ دینا ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

دیکھیے: عمران خان کی صحت، قانونی حقوق اور احتجاجی سیاست پر سیاسی محاذ آرائی تیز

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *